❮
❯
حدیث نمبر: 3256
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمُهَاجِرِ أَوْ أَبُو عَبْدِ رَبٍّ شَكَّ الْوَلِيدُ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَقِيَ رَجُلًا عَالِمًا أَوْ عَابِدًا فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهَا يَقْتُلُهَا ظُلْمًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ لَقِيَ آخَرَ فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلُّهَا يَقْتُلُهَا ظُلْمًا ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَئِنْ قُلْتُ لَكَ : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ لَقَدْ كَذَبْتُ ، هَاهُنَا دَيْرٌ فِيهِ قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ فَأْتِهِمْ فَاعْبُدِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ ، لَعَلَّ اللهَ تَعَالَى يَتُوبُ عَلَيْكَ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ ، فَاخْتَصَمَ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى مَلَكًا أَنْ قِيسُوا مَا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ ، فَإِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ فَهُوَ مِنْهُمْ ، فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأُنْمُلَةٍ ، فَغَفَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ " .
ترجمہ

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں ایک شخص تھا جو کسی عالم یا عابد سے ملا اور اس سے کہا کہ اس نے ننانوے انسانوں کو سراسر ظلم و زیادتی کی بنیاد پر قتل کیا ہے، کیا تم میرے لیے توبہ کی کوئی صورت پاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تو اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا، پھر وہ ایک اور شخص سے ملا اور کہا کہ اس نے سو جانیں ناحق قتل کی ہیں، تو کیا تم میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش پاتے ہو؟ اس نے جواب دیا: اگر میں تجھ سے یہ کہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول نہیں فرماتا جو توبہ کر لے تو یقیناً میں نے جھوٹ کہا، یہاں ایک عبادت گاہ ہے جس میں کچھ لوگ اللہ کی بندگی میں مشغول ہیں، تم ان کے پاس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر اللہ عزوجل کی عبادت کرو، شاید کہ اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرما لے، چنانچہ وہ ان کی طرف روانہ ہوا مگر ابھی وہاں پہنچا نہیں تھا کہ اسے موت نے آ لیا، اس پر عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہو گیا، تب اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا (جس نے حکم دیا) کہ تم دونوں مقامات کے درمیانی فاصلے کی پیمائش کرو، وہ جس بستی کے زیادہ قریب پایا گیا وہ انہی لوگوں میں شمار ہو گا، جب انہوں نے فاصلہ ناپا تو اسے توبہ کرنے والوں کی عبادت گاہ سے ایک پورے کے برابر زیادہ قریب پایا، پس اللہ عزوجل نے اس کی مغفرت فرما دی۔“
تخریج: اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3256
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف من طريق ابن أبي المهاجر، لجهالته، وحسن من طريق أبي عبد رب الدمشقي؛ لأنه صدوق. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17606، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7210»