المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التوبة والاستغفار باب: توبہ اور اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت طلب کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ تَعَالَى أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الَّذِي قَدْ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ ، فَسَعَى فِي بُغَائِهَا يَمِينًا وَشِمَالًا ، حَتَّى أَعْيَى أَوْ أَيِسَ مِنْهَا وَإِذْ قَدْ هَلَكَ نَظَرَ فَوَجَدَهَا فِي مَكَانٍ لَمْ يَكُنْ يَرْجُو أَنْ يَجِدَهَا فِيهِ ، فَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُسْرِفِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ حِينَ وَجَدَهَا " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی توبہ پر، جس نے (گناہوں کے ارتکاب سے) اپنی جان پر حد سے زیادہ زیادتی کی ہو، اس شخص سے بھی کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی (دورانِ سفر) اپنی سواری گم ہوگئی ہو، پھر وہ اسے تلاش کرنے کی تگ و دو میں دائیں بائیں ہر طرف بھاگا دوڑا ہو یہاں تک کہ وہ تھک کر نڈھال ہو گیا یا اس کے ملنے سے بالکل ناامید ہو گیا، اور جب وہ (شدتِ پیاس و بھوک سے) ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تو اچانک اس کی نظر پڑی اور اس نے اپنی سواری کو ایک ایسی جگہ پایا جہاں اسے اس کے ملنے کی قطعاً کوئی امید نہ تھی؛ پس اللہ عزوجل اپنے گناہ گار بندے کی توبہ پر اس شخص کی اس خوشی سے بھی کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو اسے اپنی سواری کے مل جانے پر ہوئی تھی۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند کے تمام رجال ثقہ اور صحیحین کے راوی ہیں۔