المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التوبة والاستغفار باب: توبہ اور اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت طلب کرنے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ الْمَاصِرُ ، عَنْ دَاوُدَ الْبَصْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ذَنْبًا قَدِ اعْتَادَهُ الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةِ ، أَوْ ذَنْبًا لَيْسَ بِتَارِكِهِ حَتَّى يَمُوتَ ، أَوْ تَقُومَ عَلَيْهِ السَّاعَةُ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُذْنِبًا مُفَتَّنًا خَطَّاءً نَسِيًّا ، فَإِنْ ذُكِّرَ ذَكَرَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک ہر مومن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس کا وہ وقتاً فوقتاً عادی ہو چکا ہوتا ہے، یا پھر وہ ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ اپنی موت تک یا اس وقت تک نہیں چھوڑ پاتا جب تک اس پر قیامت قائم نہ ہو جائے؛ حقیقت یہ ہے کہ مومن پیدا ہی ایسا کیا گیا ہے کہ وہ آزمائش میں پڑنے والا، کثرت سے خطائیں کرنے والا اور بہت زیادہ بھولنے والا ہے، لیکن جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل کر لیتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔