❮
❯
حدیث نمبر: 3264
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ الْمَاصِرُ ، عَنْ دَاوُدَ الْبَصْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ذَنْبًا قَدِ اعْتَادَهُ الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةِ ، أَوْ ذَنْبًا لَيْسَ بِتَارِكِهِ حَتَّى يَمُوتَ ، أَوْ تَقُومَ عَلَيْهِ السَّاعَةُ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُذْنِبًا مُفَتَّنًا خَطَّاءً نَسِيًّا ، فَإِنْ ذُكِّرَ ذَكَرَ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک ہر مومن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس کا وہ وقتاً فوقتاً عادی ہو چکا ہوتا ہے، یا پھر وہ ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ اپنی موت تک یا اس وقت تک نہیں چھوڑ پاتا جب تک اس پر قیامت قائم نہ ہو جائے؛ حقیقت یہ ہے کہ مومن پیدا ہی ایسا کیا گیا ہے کہ وہ آزمائش میں پڑنے والا، کثرت سے خطائیں کرنے والا اور بہت زیادہ بھولنے والا ہے، لیکن جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل کر لیتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3264
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث في سنده. الله بن دُكين وهو ضعيف، وفيه داود البصري لم أميزه، لذا أتوقف في الحكم عليه. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 674، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10666، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5884»