المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التوبة والاستغفار باب: توبہ اور اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت طلب کرنے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ : " إِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ وَإِنْ كَانَ قَلِيلَ الْعِلْمِ ، وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعَاصِي شَيْئًا وَإِنْ صَغُرَ فِي أَعْيُنِكُمْ ، فَإِنَّهُ لَا صَغِيرَ مَعَ الْإِصْرَارِ وَلَا كَبِيرَ مَعَ اسْتِغْفَارٍ ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَائِلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ حَتَّى عَنْ مَسِّ أَحَدِكُمْ ثَوْبَ أَخِيهِ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْعَبْدَ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ ، فَقَدْ خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، فَمَنِ اخْتَارَ النَّارَ عَلَى الْجَنَّةِ فَأَبْعَدَهُ اللهُ تَعَالَى ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَدَعْ شَيْئًا نَهَى عَنْهُ إِلَّا وَقَدْ بَيَّنَهُ لَكُمْ لِيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ " الْحَدِيثَ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”حقیقی عالم تو وہی ہے جو اپنے علم کے مطابق عمل کرے، خواہ اس کا علم قلیل ہی کیوں نہ ہو، اور تم گناہوں میں سے کسی بھی نافرمانی کو ہرگز معمولی و حقیر نہ سمجھو اگرچہ وہ تمہاری نظروں میں چھوٹی ہی دکھائی دے، کیونکہ اصرار اور مداومت کی صورت میں کوئی گناہ صغیر (چھوٹا) نہیں رہتا اور توبہ و استغفار کی موجودگی میں کوئی گناہ کبیرہ (بڑا) نہیں رہتا۔ آگاہ رہو! اللہ تبارک و تعالیٰ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں باز پرس کرنے والا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کے کپڑے کو (بغیر ضرورت) چھونے کے متعلق بھی سوال ہو گا، اور یہ جان لو کہ ہر بندے کو قیامت کے دن اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی تھی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو پیدا فرمایا ہے، پس جس شخص نے جنت کے مقابلے میں آگ کا انتخاب کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور فرما دے۔ خبردار! اللہ عزوجل نے جس کام سے بھی منع فرمایا ہے اسے تمہارے لیے مکمل طور پر واضح کر دیا ہے تاکہ ﴿لِيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ﴾ [سورة الأنفال: 42] ”جو زندہ رہے وہ بھی روشن دلیل (حق واضح ہونے) کے بعد زندہ رہے اور جو ہلاک ہو وہ بھی روشن دلیل کے بعد ہلاک ہو“۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے راویوں کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف اور موضوع (من گھڑت) قرار دی گئی ہے۔