❮
❯
حدیث نمبر: 3261
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْغَفُورِ ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالِاسْتِغْفَارِ فَأَكْثِرُوا مِنْهُمَا ; فَإِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ : أَهْلَكْتُ النَّاسَ بِالذُّنُوبِ ، فَأَهْلَكُونِي بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالِاسْتِغْفَارِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَهْلَكْتُهُمْ بِالْأَهْوَاءِ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ " .
ترجمہ

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لو اور ان دونوں کا کثرت سے ورد کیا کرو؛ کیونکہ ابلیس نے (حسرت سے) کہا ہے: میں نے لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کر کے ہلاک (برباد) کرنا چاہا مگر انہوں نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور استغفار کے ذریعے مجھے ہی ہلاک (ناکام و نامراد) کر ڈالا، پس جب میں نے یہ صورتحال دیکھی تو میں نے انہیں نفسانی خواہشات اور بدعات کے ذریعے ہلاک کرنا شروع کیا حالانکہ وہ (اپنی جہالت کی وجہ سے) یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (3261) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الغفور بن سعید اور عثمان بن مطر ضعیف راوی ہیں، جس کی بنا پر محدثین کے نزدیک یہ روایت سنداؐ ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3261
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الإسناد ضعيف جدًا، لوجود عبد الغفور بن عبد العزيز ضعيف جدًا، وفيه عثمان بن مطر وأبو نُصيرة، وهما ضعيفان. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6918، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17105، 17574، 17869، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7237»