❮
❯
حدیث نمبر: 3262
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَخَاضُوا فِي حَدِيثٍ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا إِلَّا غَفَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ مَا خَاضُوا فِيهِ " .
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں (دنیاوی یا عام) گفتگو میں مشغول ہوئے، پھر اس محفل سے برخاست ہونے سے قبل انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے مغفرت طلب کر لی، تو اللہ عزوجل ان کی ان تمام باتوں کے وبال کو معاف فرما دیتا ہے جن میں وہ منہمک رہے تھے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، تاہم اس کی سند میں جعفر بن زبیر نامی راوی ضعیف ہے، البتہ مجلس کے اختتام پر استغفار کی فضیلت دیگر مستند اور صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، لحال جعفر بن الزبير الشامي، وهو ضعيف الحديث جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»