المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التوبة والاستغفار باب: توبہ اور اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت طلب کرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَرَهُ رَهْطٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَقَالُوا : أَنْفُسُنَا لَكَ الْفِدَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ يَقُومُ بِهَذِهِ الشَّدَائِدِ وَكَيْفَ الْعَيْشُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ : " وَأَنْتُمْ فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، نَازَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أُمَّتِي فَقَالَ لِي : بَابُ التَّوْبَةِ مَفْتُوحٌ حَتَّى يُنْفَخَ فِي الصُّورِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَنَةٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَهْرٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِجُمُعَةٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُمُعَةٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمٌ كَثِيرٌ ، مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَاعَةٍ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ يُغَرْغِرَ بِالْمَوْتِ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ " ثُمَّ نَزَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ آخِرَ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا
دَاوُدُ وَشَيْخُهُ مَعْرُوفَانِ بِالْوَضْعِ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا (راوی نے پوری حدیث تفصیل سے ذکر کی)، پھر جب آپ ﷺ منبر سے نیچے اترنے لگے تو انصار رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ نے آپ ﷺ کے منبر سے مکمل نیچے اترنے سے پہلے ہی آپ کی طرف لپک کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں آپ پر فدا ہوں، ان سختیوں کی تاب کون لا سکے گا اور اس (ہولناک) دن کے تذکرے کے بعد زندگی کیسی ہوگی؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اور تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں نے اپنی امت کے معاملے میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے خوب التجا کی تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک کہ صور نہ پھونک دیا جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال قبل توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال تو بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک ماہ قبل توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ماہ بھی بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک ہفتہ قبل توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ہفتہ بھی بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک دن پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن بھی بہت زیادہ ہے، جس نے اپنی موت سے ایک گھڑی پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے موت کا غرغرہ (نزع کی ہچکی) شروع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ پھر آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور یہ آپ ﷺ کا آخری خطبہ تھا جو آپ نے ارشاد فرمایا۔
داؤد (بن محبر) اور ان کے استاد (میسرہ) دونوں ہی حدیثیں گھڑنے کے حوالے سے معروف ہیں۔