کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعاؤں کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا دَعَوْنَا قُلْنَا : اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَيْنَا صَلَاةَ قَوْمٍ أَبْرَارٍ ، لَيْسُوا بِأَئِمَّةٍ وَلَا فُجَّارٍ ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ ، وَيَصُومُونَ النَّهَارَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَغَيْرُهُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم دعا کرتے تھے تو ہم یہ کہتے تھے :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَيْنَا صَلَاةَ قَوْمٍ أَبْرَارٍ ، لَيْسُوا بِأَئِمَّةٍ وَلَا فُجَّارٍ ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ ، وَيَصُومُونَ النَّهَارَ» ” اے اللہ ! نیک لوگوں کا درود ( یعنی ان پر نازل ہونے والی رحمت ) ہم پر نازل فرما ، وہ نیک لوگ جو نہ گناہگار ہیں ، نہ فاجر ہیں ، جو راتوں کو نوافل پڑھتے ہیں اور دن میں روزے رکھتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد ہے ، جسے ابونعیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3200)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ الْغَدَاةَ ، وَنُورًا يَهْدِي ، وَرَحْمَةً تَنْشُرُهَا ، وَرِزْقًا تَبْسُطُهُ ، وَضُرًّا تَكْشِفُهُ ، وَبَلَاءً تَرْفَعُهُ ، وَفِتْنَةً تَصْرِفُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سبرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ الْغَدَاةَ ، وَنُورًا يَهْدِي ، وَرَحْمَةً تَنْشُرُهَا ، وَرِزْقًا تَبْسُطُهُ ، وَضُرًّا تَكْشِفُهُ ، وَبَلَاءً تَرْفَعُهُ ، وَفِتْنَةً تَصْرِفُهَا»
” اے اللہ ! صبح تو جو بھلائی تقسیم کرے گا اور جو نور عطا کرے گا اور جو رحمت پھیلائے گا اور جو رزق بانٹے گا اور جو مشکل دور کرے گا اور جو آزمائش اُٹھا لے گا اور جس فتنے کو پھیر دے گا ، ان ( سب ) میں سے ہر ایک بھلائی میں ، میرا حصہ سب سے زیادہ رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13079)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، أَنْ تَجْعَلَنِي فِي حِرْزِكَ ، وَحِفْظِكَ ، وَجِوَارِكَ ، وَتَحْتَ كَنَفِكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، أَنْ تَجْعَلَنِي فِي حِرْزِكَ ، وَحِفْظِكَ ، وَجِوَارِكَ ، وَتَحْتَ كَنَفِكَ» ” اے اللہ ! میں تیری ذات کے نور کے وسیلے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جس نور کی وجہ سے آسمان اور زمین روشن ہیں ( میں یہ سوال کرتا ہوں : ) تو مجھے اپنی امان ، حفاظت اور پناہ میں اور اپنے کرم کے سائے میں رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17432
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10600)»
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ - وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُقْبَضَ - كَانَ يَدْعُو : اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، إِذَا فَتًى شَابٌّ مِنْ أَجْمَلِ الرِّجَالِ وَعَلَيْهِ دَوَّاحٌ أَخْضَرُ فَقَالَ : مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ ؟ فَقُلْتُ : كَيْفَ أَدْعُو يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : قُلِ : اللَّهُمَّ حَسُنَ الْعَمَلُ ، وَبَلَغَ الْأَجَلُ ، قُلْتُ : مَنْ أَنْتَ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : أَنَا رِيبَائِيلُ الَّذِي يَسُلُّ الْحُزْنَ مِنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُرْوَةُ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ مِقْلِاصٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن رویم نے ، سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے عمر رسیدہ افراد میں سے ایک تھے ، ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا انتقال ہو جائے ، وہ یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ»
” اے اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، تو مجھے اپنی طرف بلا لے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن میں مسجد دمشق میں موجود تھا ، اسی دوران ایک نوجوان جو بہت خوبصورت تھا اور اس کے جسم پر سبز لباس تھا ، اس نے کہا: آپ یہ کیا دعا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! پھر میں کیا دعا کروں ؟ اس نے کہا: آپ یہ کہیں : «اللَّهُمَّ حَسُنَ الْعَمَلُ ، وَبَلَغَ الْأَجَلُ» ” اے اللہ ! تو عمل کو اچھا کر دے اور اجل ( یعنی موت ) تک پہنچا دے ۔ “
میں نے کہا: تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے کہا: میں ” ریبائیل “ ہوں ، جو اہل ایمان کے دلوں سے غم کو دور کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ نامی راوی کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور سعید بن مقلاص نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17433
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (245/18)»
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : ( إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا ) قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ فَلْيَقُمْ ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِّمْنَا ، قَالَ : قُولُوا : اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا : أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي إِنْ أَثِقْ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ . ¤ قَالَ : وَزَادَ فِيهَا زَكَرِيَّا عَنِ الْقَاسِمِ : خَائِفًا مُسْتَجِيرًا ، مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ قَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے رحمان سے عہد کیا ہو ۔ “ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس شخص کا میرے ساتھ کوئی عہد ہو ، وہ کھڑا ہو جائے ، لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان ! آپ ہمیں تعلیم دیجئے ( یعنی اس بات کی تعلیم دیجئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیسے عہد کرنا چاہیے ؟ ) تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا : أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي إِنْ أَثِقْ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ، میں اس دنیاوی زندگی میں تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے نفس کے سپرد کر دیا ، تو تُو مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور بھلائی سے دور کر دے گا ، اور میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، تو اس بات کو میرے لئے ، اپنی بارگاہ میں عہد بنا لے ، جسے تو قیامت کے دن مجھے ادا کر دینا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں زکریا نامی راوی نے قاسم نامی راوی کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :
«خَائِفًا مُسْتَجِيرًا ، مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ»
” ( میں ) خوف کے عالم میں ، پناہ مانگتے ہوئے ، مغفرت طلب کرتے ہوئے ، تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے ( یہ عہد کر رہا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8918)»
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنِعْمَتِكَ السَّابِغَةِ الَّتِي أَنْعَمْتَ بِهَا ، وَبَلَائِكَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي ، وَبِفَضْلِكَ الَّذِي أَفْضَلْتَ عَلَيَّ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ ، اللَّهُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِفَضْلِكَ ، وَمَنِّكَ ، وَرَحْمَتِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنِعْمَتِكَ السَّابِغَةِ الَّتِي أَنْعَمْتَ بِهَا ، وَبَلَائِكَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي ، وَبِفَضْلِكَ الَّذِي أَفْضَلْتَ عَلَيَّ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ ، اللَّهُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِفَضْلِكَ ، وَمَنِّكَ ، وَرَحْمَتِكَ» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیری اس پھیلی ہوئی نعمت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کی ہے اور اس آزمائش کے حوالے سے ، جس میں تو نے مجھے مبتلا کیا ہے ، اور تیرے اس فضل کے وسیلہ سے ، جو تو نے مجھ پر کیا ہے ( ان سب کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ دعا مانگتا ہوں : ) کہ تو مجھے جنت میں داخل کر دینا ، اے اللہ ! اپنے فضل ، اپنے احسان اور اپنی رحمت کے ذریعے ، مجھے جنت میں داخل کر دینا ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8917)»
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي أَهْلِ الشَّقَاءِ فَامْحُنِي ، وَأَثْبِتْنِي فِي أَهْلِ السَّعَادَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوقلابہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ، وہ یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي أَهْلِ الشَّقَاءِ فَامْحُنِي ، وَأَثْبِتْنِي فِي أَهْلِ السَّعَادَةِ» ” اے اللہ ! اگر تو نے میرا نام بدنصیب لوگوں میں نوٹ کیا ہے ، تو اسے وہاں سے مٹا کر ، میرا نام سعادت مند لوگوں میں نوٹ کر لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8847)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَدْعُو : اللَّهُمَّ زِدْنِي إِيمَانًا ، وَيَقِينًا ، وَفَهْمًا - أَوْ قَالَ : عِلْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن عکیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ زِدْنِي إِيمَانًا ، وَيَقِينًا ، وَفَهْمًا - أَوْ قَالَ : عِلْمًا»
” اے اللہ ! میرے ایمان ، یقین ، فہم ۔ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ علم میں اضافہ فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8549)»
وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ مُعَاذٌ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ : اللَّهُمَّ نَامَتِ الْعُيُونُ ، وَغَارَتِ النُّجُومُ ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ ، اللَّهُمَّ طَلَبِي لِلْجَنَّةِ بَطِيءٌ ، وَهَرَبِي مِنَ النَّارِ ضَعِيفٌ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي عِنْدَكَ هَدْيًا تَرُدُّهُ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ثور بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب رات کے وقت تہجد کی نماز ادا کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ نَامَتِ الْعُيُونُ ، وَغَارَتِ النُّجُومُ ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ ، اللَّهُمَّ طَلَبِي لِلْجَنَّةِ بَطِيءٌ ، وَهَرَبِي مِنَ النَّارِ ضَعِيفٌ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي عِنْدَكَ هَدْيًا تَرُدُّهُ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ»
” اے اللہ ! آنکھیں سو گئی ہیں ، ستارے ڈوب چلے ہیں ، تو زندہ اور قیوم ہے ، اے اللہ ! جنت کے لئے میری طلب سست ہے اور جہنم سے میرا بھاگنا کمزور ہے ، اے اللہ ! اپنی بارگاہ میں ، میرے لئے ایک ایسا تحفہ رکھ لے ، جسے تو قیامت کے دن مجھے دے دینا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17438
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (34/20)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ : أَزْحَفُ عَلَى بَعِيرٍ لِي ، وَأَنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتْرُكَهُ فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَأَقَامَهُ لِي فَرَكِبْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن قرط بیان کرتے ہیں : میرا اونٹ سفر کے دوران تھکاوٹ کا شکار ہو کر رک گیا ، میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسے چھوڑ دیتا ہوں ، لیکن پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے میرے لئے ٹھیک کر دیا اور میں سوار ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17439
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔