مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ أَدْعِيَةِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعاؤں کا بیان
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ - وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُقْبَضَ - كَانَ يَدْعُو : اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، إِذَا فَتًى شَابٌّ مِنْ أَجْمَلِ الرِّجَالِ وَعَلَيْهِ دَوَّاحٌ أَخْضَرُ فَقَالَ : مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ ؟ فَقُلْتُ : كَيْفَ أَدْعُو يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : قُلِ : اللَّهُمَّ حَسُنَ الْعَمَلُ ، وَبَلَغَ الْأَجَلُ ، قُلْتُ : مَنْ أَنْتَ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : أَنَا رِيبَائِيلُ الَّذِي يَسُلُّ الْحُزْنَ مِنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُرْوَةُ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ مِقْلِاصٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عروہ بن رویم نے ، سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے عمر رسیدہ افراد میں سے ایک تھے ، ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا انتقال ہو جائے ، وہ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ»
” اے اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، تو مجھے اپنی طرف بلا لے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن میں مسجد دمشق میں موجود تھا ، اسی دوران ایک نوجوان جو بہت خوبصورت تھا اور اس کے جسم پر سبز لباس تھا ، اس نے کہا: آپ یہ کیا دعا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! پھر میں کیا دعا کروں ؟ اس نے کہا: آپ یہ کہیں : «اللَّهُمَّ حَسُنَ الْعَمَلُ ، وَبَلَغَ الْأَجَلُ» ” اے اللہ ! تو عمل کو اچھا کر دے اور اجل ( یعنی موت ) تک پہنچا دے ۔ “
میں نے کہا: تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے کہا: میں ” ریبائیل “ ہوں ، جو اہل ایمان کے دلوں سے غم کو دور کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ نامی راوی کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور سعید بن مقلاص نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔