حدیث نمبر: 17428
عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ " . ¤ قَالَ كَعْبٌ : وَهَكَذَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ” اے اللہ ! تو کوئی ایسا معبود نہیں ہے ، جسے ہم نے بنایا ہو ، اور تو کوئی ایسا پروردگار نہیں ہے ، جسے ہم نے ایجاد کیا ہو ، تجھ سے پہلے ہمارا کوئی اور پروردگار نہیں تھا ، جس کی ہم پناہ میں جاتے اور تجھے چھوڑ دیتے ، اور ہماری تخلیق میں کسی نے تیری مدد نہیں کی ہے کہ ہم اس کو تیرا شریک قرار دیتے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ۔ “
کعب بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ” اے اللہ ! تو کوئی ایسا معبود نہیں ہے ، جسے ہم نے بنایا ہو ، اور تو کوئی ایسا پروردگار نہیں ہے ، جسے ہم نے ایجاد کیا ہو ، تجھ سے پہلے ہمارا کوئی اور پروردگار نہیں تھا ، جس کی ہم پناہ میں جاتے اور تجھے چھوڑ دیتے ، اور ہماری تخلیق میں کسی نے تیری مدد نہیں کی ہے کہ ہم اس کو تیرا شریک قرار دیتے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ۔ “
کعب بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17429
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا ، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَارُ السُّوءِ فِي دَارِ الْإِقَامَةِ قَاصِمَةُ الظَّهْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا ، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا» ” اے اللہ ! میں ایسے مال سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لئے فتنہ بن جائے اور ایسی اولاد سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لیے وبال بن جائے ، اور برائی کے آئینے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو بڑھاپے کی آمد سے پہلے بڑھاپے کو قریب کر دے ، اور میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی آنکھیں مجھ پر رہیں ، اور جس کے کان میری طرف متوجہ رہیں ، وہ اگر کوئی اچھائی دیکھے تو اسے دفن کر دے اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیام کی جگہ میں برا پڑوی کمر توڑ دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا ، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا» ” اے اللہ ! میں ایسے مال سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لئے فتنہ بن جائے اور ایسی اولاد سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لیے وبال بن جائے ، اور برائی کے آئینے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو بڑھاپے کی آمد سے پہلے بڑھاپے کو قریب کر دے ، اور میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی آنکھیں مجھ پر رہیں ، اور جس کے کان میری طرف متوجہ رہیں ، وہ اگر کوئی اچھائی دیکھے تو اسے دفن کر دے اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیام کی جگہ میں برا پڑوی کمر توڑ دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔