حدیث نمبر: 17434
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : ( إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا ) قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ فَلْيَقُمْ ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِّمْنَا ، قَالَ : قُولُوا : اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا : أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي إِنْ أَثِقْ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ . ¤ قَالَ : وَزَادَ فِيهَا زَكَرِيَّا عَنِ الْقَاسِمِ : خَائِفًا مُسْتَجِيرًا ، مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ قَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

اسود بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے رحمان سے عہد کیا ہو ۔ “ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس شخص کا میرے ساتھ کوئی عہد ہو ، وہ کھڑا ہو جائے ، لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان ! آپ ہمیں تعلیم دیجئے ( یعنی اس بات کی تعلیم دیجئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیسے عہد کرنا چاہیے ؟ ) تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا : أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي إِنْ أَثِقْ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ، میں اس دنیاوی زندگی میں تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے نفس کے سپرد کر دیا ، تو تُو مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور بھلائی سے دور کر دے گا ، اور میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، تو اس بات کو میرے لئے ، اپنی بارگاہ میں عہد بنا لے ، جسے تو قیامت کے دن مجھے ادا کر دینا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں زکریا نامی راوی نے قاسم نامی راوی کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا ، مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ»
” ( میں ) خوف کے عالم میں ، پناہ مانگتے ہوئے ، مغفرت طلب کرتے ہوئے ، تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے ( یہ عہد کر رہا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8918)»