کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور آپ کے سسرالی عزیزوں کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا ؟ فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعُوا لِي أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ - أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ - ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ ہمارے مقابلے میں خود کو اس لئے نمایاں سمجھتے ہیں کہ جو چند دنوں کے حوالے سے آپ کو ہم پر سبقت حاصل ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے : جب اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا :
” میرے لئے میرے اصحاب کو رہنے دو ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر تم احد پہاڑ جتنا ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : پہاڑوں جتنا سونا خرچ کرو ، تو تم پھر بھی اُن کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (266/3)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوا لِي أَصْحَابِي ; فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ يَبْلُغْ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان ویسے تلخ کلامی ہو گئی ، جو لوگوں کے درمیان ہو جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے لئے میرے اصحاب کو رہنے دو ، کیونکہ تم میں سے کوئی شخص اگر اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرے ، تو وہ پھر بھی اُن میں سے کسی ایک کے ، ایک مد ، بلکہ نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ابونجود کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2768)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ خَيْرٌ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا يُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ وَلَا نَصِيفَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ خَيْرٌ أَمِ الَّذِينَ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِنَا ؟ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم زیادہ بہتر ہیں یا ہمارے بعد والے لوگ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ان میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے ، تو وہ پھر بھی تم میں سے کسی ایک کے ، ایک مد ، بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اسی مضمون کی روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم زیادہ بہتر ہیں یا وہ لوگ زیادہ بہتر ہیں جو ہمارے بعد آئیں گے ۔ “ ان دونوں کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْحَنِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُهُمْ أُحُدًا ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ وَلَا نَصِيفَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کیا ہم زیادہ بہتر ہیں ؟ یا ہمارے بعد والے لوگ ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ان میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے ، تو وہ پھر بھی تم میں سے کسی ایک کے ، ایک مد ، بلکہ نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16380
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6/6)»
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي وَصِيَّتِهِ : وَأَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا يَوْمًا : إِنْ أَبْنَاءَنَا خَيْرٌ مِنَّا ، وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَمْ يُشْرِكُوا وَقَدْ أَشْرَكْنَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَحْنُ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَاءِنَا ، وَبَنُونَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ ، وَأَبْنَاءُ بَنِينَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَرْمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں مجھے یہ بات بتائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک دن یہ کہا: ہمارے بچے ہم سے بہتر ہیں ، کیونکہ وہ زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا اور ہم تو پہلے شرک کیا کرتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہم اپنے بچوں سے زیادہ بہتر ہیں ، اور ہمارے بچے ان کے بچوں سے زیادہ بہتر ہیں ، اور ہمارے بچوں کے بچے اُن کے بچوں سے زیادہ بہتر ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن عمران جرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (115/20)»
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِكُمْ ، وَأَبْنَاؤُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ” لوگ اپنے بچوں سے بہتر ہو ، اور تمہارے بچے اُن کے بچوں سے بہتر ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16382
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2774)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى الْعَالَمِينَ سِوَى النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ ، وَاخْتَارَ لِي مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً " أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيًّا - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - " فَجَعَلَهُمْ أَصْحَابِي " . وَقَالَ : " فِي أَصْحَابِي كُلِّهِمْ خَيْرٌ ، وَاخْتَارَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ ، وَاخْتَارَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَةَ قُرُونٍ : الْقَرْنَ الْأَوَّلَ ، وَالثَّانِيَ ، وَالثَّالِثَ ، وَالرَّابِعَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مرسلین کے علاوہ باقی تمام جہانوں میں سے میرے اصحاب کو منتخب کیا ، اور میرے اصحاب میں سے ، میرے لئے چار افراد کو منتخب کیا ( شاید راوی کہتے ہیں : ) یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں میرے اصحاب بنایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے تمام اصحاب میں ، بھلائی پائی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے میری امت کو دیگر تمام امتوں پر منتخب کیا ، اور میری امت میں سے چار صدیوں کو ( یا چار زمانوں کو ) منتخب کیا ، پہلا زمانہ ، دوسرا ، تیسرا اور چوتھا ( زمانہ ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16383
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2763)»
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَنْصَارِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي وَأَصْهَارِي ، فَمَنْ حَفِظَنِي فِيهِمْ حَفِظَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِيهِمْ تَخَلَّى اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَنْ تَخَلَّى اللَّهُ عَنْهُ ، أَوْشَكَ أَنْ يَأْخُذَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ جِدًّا ، وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض انصاری رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے اصحاب اور میرے سسرالی عزیزوں کے بارے میں ، میری حفاظت کرو ، جو شخص ان کے بارے میں میری حفاظت کرے گا ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی حفاظت کرے گا ، اور جو شخص ان کے بارے میں میری حفاظت نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے لاتعلق ہو جائے گا اور جس سے اللہ تعالیٰ لاتعلق ہو جائے گا ، تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں انتہائی ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (369/17)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :" احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي فَمَنْ حَفِظَنِي فِيهِمْ حَفِظَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِيهِمْ تَخَلَّى اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَنْ تَخَلَّى اللَّهُ عَنْهُ أَوْشَكَ أَنْ يَأْخُذَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ ضُعَفَاءُ جِدًّا ، وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے اصحاب کے بارے میں ، میری حفاظت کرو ، جو شخص ان کے بارے میں میری حفاظت کرے گا ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی حفاظت کرے گا ، اور جو شخص ان کے بارے میں میری حفاظت نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے لاتعلق ہو جائے گا ، اور جس سے اللہ تعالیٰ لاتعلق ہو جائے گا ، تو قریب ہے کہ وہ اُس کی گرفت کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں انتہائی ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَفِظَنِي فِي أَصْحَابِي وَرَدَ عَلَى حَوْضِي ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِي أَصْحَابِي لَمْ يَرَنِي إِلَّا مِنْ بَعِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَبِيبٌ كَاتِبُ مَالِكٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص میرے اصحاب کے بارے میں ، میری حفاظت کرے گا ، وہ میرے حوض پر میرے پاس آئے گا ، اور جو شخص میرے اصحاب کے بارے میں میری حفاظت نہیں کرے گا وہ مجھے صرف دور سے دیکھ پائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1029)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ إِلَى أَحَدٍ ، وَلَا يَتَزَوَّجَ إِلَيَّ أَحَدٌ إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، فَأَعْطَانِي ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ الْكُمَيْتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے یہ چیز مانگی کہ میں جس کے ساتھ شادی کروں ، یا جس کی شادی میرے ساتھ ہو ، تو وہ جنت میں میرے ساتھ ہو ، تو پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن کمیت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ إِلَى أَحَدٍ ، وَلَا أُزَوِّجَ إِلَيْهِ إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، فَأَعْطَانِي ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے یہ چیز مانگی کہ میں جس کے ساتھ شادی کروں ، یا جس کے ساتھ شادی کرواؤں ، تو وہ جنت میں میرے ساتھ ہو ، تو پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ نَسَبٍ وَصِهْرٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا صِهْرِي وَنَسَبِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ہر نسب اور سسرالی رشتہ منقطع ہو جائے گا ، البتہ میرے نسبی اور سسرالی رشتے کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16389
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا حَضَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَفَاةُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنَا . قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِالسَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَبِأَبْنَائِهِمْ مِنْ بَعْدِهِمْ ، إِلَّا تَفْعَلُوهُ لَا يُقْبَلُ مِنْكُمْ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِالسَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ ، وَبِأَبْنَائِهِمْ مِنْ بَعْدِهِمْ ، وَبِأَبْنَائِهِمْ مِنْ بَعْدِهِمْ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں تلقین کر دیں ، تو آپ نے فرمایا : میں تمہیں ابتداء میں ہجرت کرنے والے ، سبقت لے جانے والے مہاجرین اُن کے بعد ان کے بیٹوں کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہاری کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں تمہیں سبقت لے جانے والے پہلے لوگوں اور ان کے بعد ، ان کے بیٹوں اور ان کے بعد ان کے بیٹوں اور ان کے بعد ان کے بیٹوں کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2773) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (878)»
وَعَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِ اللَّهَ اخْتَارَنِي ، وَاخْتَارَ لِي أَصْحَابًا فَجَعَلَ لِي مِنْهُمْ وُزَرَاءً ، وَأَنْصَارًا ، وَأَصْهَارًا ، فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عویم بن ساعده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا اور میرے لئے اصحاب کو منتخب کیا ، اس نے ان اصحاب میں سے میرے وزراء اور میرے مددگار اور سسرالی عزیز بنائے ، تو جو شخص انہیں برا کہے گا اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہو گی ، اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (459) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (140/17)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُ أُمَّتِي أَوَّلُهَا وَآخِرُهَا بِقَبِيحٍ ، لَيْسُوا مِنِّي ، وَلَسْتُ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے بہترین لوگ ، اس کے ابتدائی لوگ ہیں اور اس کے آخری حصے میں برے لوگ ہوں گے ، وہ مجھ سے نہیں ہوں گے ، اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " النَّاسُ حَيِّزٌ ، وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ " . ¤ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : صَدَقَ ، وَهُوَ عِنْدَ مَرْوَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي الْهِجْرَةِ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْجِهَادِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ ایک مکان میں ہیں ، اور میں اور میرے اصحاب ایک مکان میں ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا : انہوں نے ٹھیک کہا: ہے ، وہ اس وقت مروان کے پاس موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسے امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے جو اس سے پہلے کتاب الجہاد کے آغاز میں ، ہجرت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4444) أخرجه احمد فى المسند (22/3)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " النُّجُومُ أَمَانٌ لِأَهْلِ السَّمَاءِ ، وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں اور میرے اصحاب ، میری امت کے لئے امان ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ، البتہ علی بن طلحہ نامی راوی نے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید ولکنہ منقطع
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أَصْحَابِي كَمَثَلِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ ، لَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” میرے اصحاب کی مثال ، کھانے میں نمک کی طرح ہے ، کھانا ، نمک کے ساتھ ہی ٹھیک ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2771) أخرجه ابو يعلى فى المسند (2762)»
وَعَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا : " إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَكُونُوا فِي النَّاسِ كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ ، وَلَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : ” عنقریب تم لوگ ( دوسرے ) لوگوں کے درمیان یوں رہ جاؤ گے ، جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے اور کھانا ، نمک کے بغیر ٹھیک نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2770) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7098)»
وَعَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُوشِكُ أَنْ يُحِبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيَّ نَظْرَةً وَاحِدَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِمَّا لَهُ مِنْ مَالٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : ” عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ اس نے ایک نظر مجھے دیکھ لیا ہوتا ، اور یہ چیز اس کے نزدیک ، اس کے سارے مال سے زیادہ محبوب ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2770) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7097)»
- وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ طَلَعَ رَاكِبَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ " . حَتَّى أَتَيَاهُ ، فَإِذَا رَجُلَانِ مِنْ مَذْحِجٍ ، قَالَ : فَدَنَا أَحَدُهُمَا إِلَيْهِ لِيُبَايِعَهُ ، فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ ، وَاتَّبَعَكَ ، وَصَدَّقَكَ ، مَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ " . قَالَ : فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ . ثُمَّ أَتَاهُ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ ، وَاتَّبَعَكَ ، وَصَدَّقَكَ ، مَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ عِنْدَ أَحْمَدَ تَأْتِي فِيمَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران دو سوار آتے ہوئے نظر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں کندی ہیں اور مذحج قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو پتہ چلا کہ ان دونوں کا تعلق مذحج سے ہے ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تاکہ آپ کی بیعت کرے ، جب وہ قریب ہوا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! جس شخص نے آپ کی زیارت کی ہو اور آپ پر ایمان لایا ہو اور آپ کی پیروی کی ہو اور آپ کی تصدیق کی ہو ، آپ کیا کہتے ہیں کہ اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے مبارکباد ہے راوی کہتے ہیں : پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور وہ واپس چلا گیا ۔ پھر دوسرا شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا تاکہ آپ کی بیعت کرے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے ، آپ کی پیروی کرے اور آپ کی تصدیق کرے اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے مبارکباد ہے ، اس کے لئے مزید مبارکباد ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک طریق امام أحمد نے نقل کیا ہے جو آگے چل کر اس باب میں آئے گا کہ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کی ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، ولہ شاہد
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2769) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/22)»