مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْهَارِهِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور آپ کے سسرالی عزیزوں کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى الْعَالَمِينَ سِوَى النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ ، وَاخْتَارَ لِي مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً " أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيًّا - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - " فَجَعَلَهُمْ أَصْحَابِي " . وَقَالَ : " فِي أَصْحَابِي كُلِّهِمْ خَيْرٌ ، وَاخْتَارَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ ، وَاخْتَارَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَةَ قُرُونٍ : الْقَرْنَ الْأَوَّلَ ، وَالثَّانِيَ ، وَالثَّالِثَ ، وَالرَّابِعَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مرسلین کے علاوہ باقی تمام جہانوں میں سے میرے اصحاب کو منتخب کیا ، اور میرے اصحاب میں سے ، میرے لئے چار افراد کو منتخب کیا ( شاید راوی کہتے ہیں : ) یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں میرے اصحاب بنایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے تمام اصحاب میں ، بھلائی پائی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے میری امت کو دیگر تمام امتوں پر منتخب کیا ، اور میری امت میں سے چار صدیوں کو ( یا چار زمانوں کو ) منتخب کیا ، پہلا زمانہ ، دوسرا ، تیسرا اور چوتھا ( زمانہ ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔