حدیث نمبر: 16377
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا ؟ فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعُوا لِي أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ - أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ - ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ ہمارے مقابلے میں خود کو اس لئے نمایاں سمجھتے ہیں کہ جو چند دنوں کے حوالے سے آپ کو ہم پر سبقت حاصل ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے : جب اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” میرے لئے میرے اصحاب کو رہنے دو ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر تم احد پہاڑ جتنا ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : پہاڑوں جتنا سونا خرچ کرو ، تو تم پھر بھی اُن کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (266/3)»