مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْهَارِهِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور آپ کے سسرالی عزیزوں کے بارے میں جو منقول ہے
- وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ طَلَعَ رَاكِبَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ " . حَتَّى أَتَيَاهُ ، فَإِذَا رَجُلَانِ مِنْ مَذْحِجٍ ، قَالَ : فَدَنَا أَحَدُهُمَا إِلَيْهِ لِيُبَايِعَهُ ، فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ ، وَاتَّبَعَكَ ، وَصَدَّقَكَ ، مَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ " . قَالَ : فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ . ثُمَّ أَتَاهُ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ ، وَاتَّبَعَكَ ، وَصَدَّقَكَ ، مَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ عِنْدَ أَحْمَدَ تَأْتِي فِيمَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ . ¤سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران دو سوار آتے ہوئے نظر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں کندی ہیں اور مذحج قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو پتہ چلا کہ ان دونوں کا تعلق مذحج سے ہے ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تاکہ آپ کی بیعت کرے ، جب وہ قریب ہوا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! جس شخص نے آپ کی زیارت کی ہو اور آپ پر ایمان لایا ہو اور آپ کی پیروی کی ہو اور آپ کی تصدیق کی ہو ، آپ کیا کہتے ہیں کہ اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے مبارکباد ہے راوی کہتے ہیں : پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور وہ واپس چلا گیا ۔ پھر دوسرا شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا تاکہ آپ کی بیعت کرے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے ، آپ کی پیروی کرے اور آپ کی تصدیق کرے اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے مبارکباد ہے ، اس کے لئے مزید مبارکباد ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک طریق امام أحمد نے نقل کیا ہے جو آگے چل کر اس باب میں آئے گا کہ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کی ہو ۔