حدیث نمبر: 16399
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْتَمِسَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ - أَوْ تُبْتَغَى - الضَّالَّةُ فَلَا تُوجَدُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک میرے اصحاب میں سے ، کسی فرد کو یوں تلاش نہیں کیا جائے گا ، جس طرح گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے ، اور پھر وہ نہیں ملتی ہے “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 16400
وَعَنْ جَابِرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَأْتِينَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُ الْجَيْشُ مِنْ جُيُوشِهِمْ فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَيَسْتَنْصِرُونَ بِهِ فَيُنْصَرُوا ، ثُمَّ يُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَيُقَالُ : لَا ، فَمَنْ صَحِبَ أَصْحَابَهُ ؟ فَيُقَالُ : مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَهُ ، فَلَوْ سَمِعُوا بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْبَحْرِ لَأَتَوْهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ جب ان کا لشکر نکلے گا تو دریافت کیا جائے گا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسے فرد موجود ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں ؟ تو لوگ اس فرد کے وسیلے سے مدد کا حصول چاہیں گے ، تو ان کی مدد کی جائے گی ، پھر ایک زمانہ آئے گا کہ جب یہ کہا: جائے گا : کیا کوئی ایسا فرد موجود ہے ؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو ؟ تو جواب دیا جائے گا : جی نہیں ! تو یہ پوچھا: جائے گا کہ کوئی ایسا فرد ہے جو آپ کے اصحاب کے ساتھ رہا ہو ؟ تو یہ کہا: جائے گا : کون ہے ؟ جس نے ایسے شخص کو دیکھا ہو جو آپ کے اصحاب کے ساتھ رہا ہو ؟ تو اگر لوگوں کو ایسے کسی فرد کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ سمندر کے پار ہے ، تو وہ پھر بھی اس کے پاس پہنچ جائیں گے ۔
حدیث نمبر: 16401
وَفِي رِوَايَةٍ : " ثُمَّ يَبْقَى قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَدْرُونَ مَا هُوَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پھر ایسے لوگ رہ جائیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں ہو گی کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔