مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْهَارِهِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور آپ کے سسرالی عزیزوں کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16378
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوا لِي أَصْحَابِي ; فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ يَبْلُغْ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان ویسے تلخ کلامی ہو گئی ، جو لوگوں کے درمیان ہو جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے لئے میرے اصحاب کو رہنے دو ، کیونکہ تم میں سے کوئی شخص اگر اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرے ، تو وہ پھر بھی اُن میں سے کسی ایک کے ، ایک مد ، بلکہ نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ابونجود کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔