کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا : بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا [ وَمَسْجِدًا ] ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ شَفَاعَتِي ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ [ مِنْ أُمَّتِي ] لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، مجھے ہر سرخ اور سیاہ ( یعنی سفید فام اور سیاہ فام ) کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز کی جگہ قرار دیا گیا ہے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، جو مجھ سے پہلے لوگوں کے لئے حلال نہیں تھا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ، ہر نبی نے اپنی شفاعت کے بارے میں دعا مانگ لی تھی اور میں نے اپنی شفاعت ( کی دعا ) کو سنبھال کے رکھ لیا ہے ، اور یہ میں اُس ( یعنی ہر اس فرد ) کے لئے رکھوں گا ، میری امت کا جو بھی فرد ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” متصل “ اور ” مرسل “ ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ سند
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (416/2)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، وَلَا أَقُولَنَّ فَخْرًا : بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي ، فَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، مجھے ہر سفید فام اور ہر سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال قرار نہیں دیا گیا ، اور میرے لئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ، جسے میں نے اپنی امت کے لئے مؤخر کر دیا ، اور یہ ہر اس فرد کے لئے ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13945
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3460) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11047) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 2742»
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى إِنَّ الْعَدُوَّ لَيَخَافُنِي مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ ، وَقِيلَ لِي : سَلْ تُعْطَهُ فَادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو بھی سفید فام یا سیام نام شخص ، میری امت میں داخل ہو گا ، وہ اُن میں شمار ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ دشمن ایک ماہ یا دو ماہ ( یہ شک راوی کو ہے ) کے فاصلے سے میرا خوف محسوس کرتا ہے ، اور مجھ سے یہ کہا: گیا : تم مانگو تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اپنی دعا کو اپنی اُمت کی شفاعت کے لئے سنبھال کے رکھ لیا ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2256)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ قَبْلِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ . . . يُصَلِّي حَتَّى يَبْلُغَ مِحْرَابَهُ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، يَكُونُ بَيْنَ يَدَيَّ أَيِ الْمُشْرِكِينَ ، فَيَقْذِفُ اللَّهُ الرُّعْبَ فِي قُلُوبِهِمْ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى خَاصَّةِ قَوْمِهِ ، وَبُعِثْتُ أَنَا إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَكَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَعْزِلُونَ الْخُمْسَ فَتَجِيءُ النَّارُ فَتَأْكُلُهُ ، وَأُمِرْتُ أَنَا أَنْ أُقَسِّمَهَا فِي فُقَرَاءِ أُمَّتِي ، وَلَمْ يَبْقَ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ شَفَاعَةً ، وَأَخَّرْتُ أَنَا شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے دیگر انبیاء کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز بنا دیا گیا ، یہ چیز پہلے انبیاء کرام کے لئے نہیں تھی ، وہ اس وقت نماز ادا کر سکتے تھے ، جب وہ محراب میں ( یعنی نماز کے مخصوص مقام پر ) پہنچ جاتے تھے ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مشرکین ایک ماہ کے فاصلے پر ہوتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیتا ہے ، اور ہر نبی کو اُس کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور مجھے تمام جنات اور انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ، پہلے انبیاء خمس کو الگ کر لیتے تھے ، آگ آتی تھی اور اسے کھا لیتی تھی ، اور مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں اُس کو اپنی امت کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دوں ، اور ہر نبی کو شفاعت عطا کی گئی ، اور میں نے اپنی شفاعت اپنی امت کے لئے مؤخر کر لی ( یا سنبھال کے رکھ لی ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13947
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (24451)»
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ " . وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ ذَهَبَتَا عَنِّي ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّيَمُّمِ وَبَقِيَّتُهَا فِي الْخَصَائِصِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرے استاد نے دو اور خصوصیات کا بھی ذکر کیا تھا ، جو مجھے بھول گئی ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے تیمم کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، اور بقیہ روایات ” خصائص “ سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13948
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (22443)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نُصِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالرُّعْبِ عَلَى عَدُوِّهِ مَسِيرَةَ شَهْرَيْنِ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ماہ کے فاصلے سے دشمن پر رعب کے ذریعے مدد کی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13949
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11056)»
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي ، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " ، وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " ، قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّيَمُّمِ مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ہیں ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہیں ہوا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میرے دشمن کے خلاف میری مدد کی گئی ، اور مجھے ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، اور یہ میری اُمت کے ہر اس فرد کو نصیب ہو گی ، جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کچھ احادیث تیمم سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ، جو اس نوعیت کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (161/5)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ : جُعِلَتِ الْأَرْضُ لِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ ، وَأُحِلَّتْ لِأُمَّتِي الْغَنَائِمُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے چار چیزوں کے حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے ، میری امت کے لئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ، ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، جو میرے آگے چلتا ہے ، اور میری اُمت کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7931) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (248/5)»
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَبْيَضَ وَأَسْوَدَ " ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میری امت کا کوئی فرد ، جہاں بھی نماز کا وقت پائے گا ، وہیں اُس کے لئے نماز کی جگہ ہو گی ، اور وہیں اُس کے لئے طہارت کا ذریعہ ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” مجھے ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (256/5)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرَ وَالْأَسْوَدَ ، وَإِنَّمَا كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُعْطِيتُ الْمَغْنَمَ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے تمام لوگوں ، ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، جبکہ دوسرے ہر نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، ایک ماہ کے فاصلے سے میرا دشمن مجھ سے مرعوب ہو جاتا ہے ، اور مجھے مال غنیمت عطا کیا گیا ، اور میرے لئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، اور وہ میں نے اپنی امت کے لئے مؤخر کر دی ( یا سنبھال کے رکھ لی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی کہیلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1322)»
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَمْسٍ : بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَدَخَرْتُ شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا أَمَامِي وَشَهْرًا خَلْفِي ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے دیگر انبیاء پر پانچ حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، میں نے شفاعت اپنی امت کے لئے سنبھال کے رکھ لی ہے ، اور آگے کی طرف سے ایک ماہ کے فاصلے اور پیچھے کی طرف سے ایک ماہ کے فاصلے پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور میرے لئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13954
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6674)»