حدیث نمبر: 13953
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرَ وَالْأَسْوَدَ ، وَإِنَّمَا كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُعْطِيتُ الْمَغْنَمَ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے تمام لوگوں ، ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، جبکہ دوسرے ہر نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، ایک ماہ کے فاصلے سے میرا دشمن مجھ سے مرعوب ہو جاتا ہے ، اور مجھے مال غنیمت عطا کیا گیا ، اور میرے لئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، اور وہ میں نے اپنی امت کے لئے مؤخر کر دی ( یا سنبھال کے رکھ لی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی کہیلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1322)»