مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ عُمُومِ بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ قَبْلِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ . . . يُصَلِّي حَتَّى يَبْلُغَ مِحْرَابَهُ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، يَكُونُ بَيْنَ يَدَيَّ أَيِ الْمُشْرِكِينَ ، فَيَقْذِفُ اللَّهُ الرُّعْبَ فِي قُلُوبِهِمْ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى خَاصَّةِ قَوْمِهِ ، وَبُعِثْتُ أَنَا إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَكَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَعْزِلُونَ الْخُمْسَ فَتَجِيءُ النَّارُ فَتَأْكُلُهُ ، وَأُمِرْتُ أَنَا أَنْ أُقَسِّمَهَا فِي فُقَرَاءِ أُمَّتِي ، وَلَمْ يَبْقَ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ شَفَاعَةً ، وَأَخَّرْتُ أَنَا شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے دیگر انبیاء کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز بنا دیا گیا ، یہ چیز پہلے انبیاء کرام کے لئے نہیں تھی ، وہ اس وقت نماز ادا کر سکتے تھے ، جب وہ محراب میں ( یعنی نماز کے مخصوص مقام پر ) پہنچ جاتے تھے ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مشرکین ایک ماہ کے فاصلے پر ہوتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیتا ہے ، اور ہر نبی کو اُس کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور مجھے تمام جنات اور انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ، پہلے انبیاء خمس کو الگ کر لیتے تھے ، آگ آتی تھی اور اسے کھا لیتی تھی ، اور مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں اُس کو اپنی امت کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دوں ، اور ہر نبی کو شفاعت عطا کی گئی ، اور میں نے اپنی شفاعت اپنی امت کے لئے مؤخر کر لی ( یا سنبھال کے رکھ لی ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔