حدیث نمبر: 13945
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، وَلَا أَقُولَنَّ فَخْرًا : بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي ، فَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، مجھے ہر سفید فام اور ہر سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال قرار نہیں دیا گیا ، اور میرے لئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ، جسے میں نے اپنی امت کے لئے مؤخر کر دیا ، اور یہ ہر اس فرد کے لئے ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13945
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3460) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11047) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 2742»