حدیث نمبر: 13950
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي ، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " ، وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " ، قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّيَمُّمِ مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ہیں ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہیں ہوا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میرے دشمن کے خلاف میری مدد کی گئی ، اور مجھے ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، اور یہ میری اُمت کے ہر اس فرد کو نصیب ہو گی ، جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کچھ احادیث تیمم سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ، جو اس نوعیت کی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (161/5)»