حدیث نمبر: 13954
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَمْسٍ : بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَدَخَرْتُ شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا أَمَامِي وَشَهْرًا خَلْفِي ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے دیگر انبیاء پر پانچ حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، میں نے شفاعت اپنی امت کے لئے سنبھال کے رکھ لی ہے ، اور آگے کی طرف سے ایک ماہ کے فاصلے اور پیچھے کی طرف سے ایک ماہ کے فاصلے پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور میرے لئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13954
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6674)»