کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13930
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِخَدِيجَةَ : " إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ " ، قَالَتْ : لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : إِنْ يَكُنْ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلَ نَامُوسِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيٌّ فَسَأُعَزِّرُهُ وَأَنْصُرُهُ وَأُومِنُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَأُعِينُهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میں نے ایک روشنی دیکھی اور میں نے ایک آواز سنی ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں مجھے جنون لاحق نہ ہو جائے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا ، اے سیدنا عبداللہ کے صاحبزادے ! پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو ورقہ نے کہا: اگر تو وہ سچ کہہ رہے ہیں ، تو پھر یہ وہی ” ناموس “ ( یعنی فرشتہ ) ہے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے والے ” ناموس “ کی مانند ہے اگر انہیں ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) مبعوث کیا گیا اور میں اُس وقت زندہ ہوا ، تو میں اُن کی بھرپور تائید اور مدد کروں گا ، اور اُن پر ایمان لے آؤں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” متصل “ اور ” مرسل “ طور پر نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں اُن کی اعانت کروں گا “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” متصل “ اور ” مرسل “ طور پر نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں اُن کی اعانت کروں گا “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13931
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : " مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ حَتَّى أَتَانِي مَلَكَانِ وَأَنَا بِبَعْضِ بَطْحَاءِ مَكَّةَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَهْوَ هُوَ ؟ قَالَ : زِنْهُ بِرَجُلٍ ، [ فَوُزِنْتُ بِرَجُلٍ ]فَرَجَحْتُهُ ، قَالَ : فَزِنْهُ بِعَشَرَةٍ ، فَوَزَنَنِي بِعَشَرَةٍ فَوَزَنْتُهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : زِنْهُ بِمِائَةٍ ، فَوَزَنَنِي بِمِائَةٍ فَرَجَحْتُهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : زِنْهُ بِأَلْفٍ [ فَوَزَنَنِي بِأَلْفٍ ] فَرَجَحْتُهُمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ : لَوْ وَزَنْتَهُ بِأُمَّتِهِ لَرَجَحَهَا ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : شُقَّ بَطْنَهُ ، فَشَقَّ بَطْنِي ثُمَّ أَخْرَجَ مِنْهُ مَغْمَزَ الشَّيْطَانِ وَعَلَقَ الدَّمِ فَطَرَحَهَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ : اغْسِلْ بَطْنَهُ غَسْلَ الْإِنَاءِ ، وَاغْسِلْ قَلْبَهُ غَسْلَ الْمُلَاءِ ، ثُمَّ دَعَا بِالسِّكِّينَةِ كَأَنَّهَا رَهْرَهَةٌ بَيْضَاءُ ، فَأُدْخِلَتْ قَلْبِي ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : خِطْ بَطْنَهُ . فَخَاطَ بَطْنِي وَجَعَلَا الْخَاتَمَ بَيْنَ كَتِفِي ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَلَّيَا عَنِّي كَأَنَّمَا أُعَايِنُ الْأَمْرَ مُعَايَنَةً " . وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ : " فَجَعَلُوا يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ كِفَّةِ الْمِيزَانِ " ، قُلْتُ : لِأَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْإِسْرَاءِ غَيْرُ هَذَا ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَبِيرٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ نبی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پتہ نہیں تھا ، یہاں تک کہ مجھے یہ بات بتائی گئی ، میرے پاس دو فرشتے آئے ، میں اُس وقت مکہ کے میدان میں کسی جگہ موجود تھا ، ان میں سے ایک نے کہا: کیا یہ وہی ہیں ؟ پھر اس نے کہا: ایک شخص کے ساتھ ان کا وزن کرو ، جب میرا ایک شخص کے ساتھ وزن کیا گیا ، تو میرا پلڑا بھاری تھا ، اس نے کہا: دس افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، اس نے دس افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا ، پھر اس نے کہا: ایک سو افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، جب انہوں نے ایک سو افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا ، پھر اس نے کہا: ایک ہزار افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، اس نے ایک ہزار افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا پلڑا بھاری تھا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم ان کا وزن ان کی پوری امت کے ساتھ کرو گے ، تو بھی یہ ان سے بھاری ہوں گے ، پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ان کا پیٹ چیر دو ! پھر اس نے میرا پیٹ چیر دیا ، اور اس میں سے شیطان کا حصہ نکال دیا اور گوشت کا لوتھڑا نکالا ، اور اسے ایک طرف رکھ دیا ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے پیٹ کو دھو دو ! جس طرح برتن کو دھویا جاتا ہے ، اور ان کے دل کو دھو دو ! جس طرح چادر کو دھویا جاتا ہے ، پھر اس نے سکینت منگوائی ، وہ سفید چمک دار چیز کی مانند تھی ، وہ میرے دل میں داخل کر دی گئی ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے پیٹ کو سی دو ! تو اس نے میرے پیٹ کو سی دیا ، پھر میرے دونوں کندھوں کے درمیان انہوں نے مہر لگا دی ، اور پھر وہ میرے پاس سے چلے گئے ، اور یہ سب کچھ میں خود ملاحظہ کرتا رہا ۔ یہاں محمد بن معمر نے اپنی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ لوگ ، میزان کے پلڑے سے میرے اوپر گرنے کے قریب تھے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں واقعہ معراج سے متعلق باب میں مذکور ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن عبداللہ بن عثمان بن کبیر ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، عقیلی نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن عبداللہ بن عثمان بن کبیر ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، عقیلی نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13932
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَأَهْلُ الْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا [ عَلَى أَهْلِهِ ] ، وَبُعِثْتُ وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اونٹ والوں اور بکری والوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں ، فخر کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا ، تو وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا ، تو میں ” جیاد “ کے مقام پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 13933
وَعَنْ وَرَقَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الَّذِي يَأْتِيكَ ؟ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِينِي مِنَ السَّمَاءِ جَنَاحَاهُ لُؤْلُؤٌ وَبَاطِنُ قَدَمَيْهِ أَخْضَرُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ورقہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کے پاس جو فرشتہ آیا تھا ، وہ کیسے آپ کے پاس آیا تھا ؟ اُن کی مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ آسمان سے میرے پاس آیا تھا ؟ اُس کے دونوں پَر موتیوں سے بنے ہوئے تھے ، اور اس کے دونوں پاؤں کا اندرونی حصہ سبز تھا ۔ “
حدیث نمبر: 13934
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَسْمَعُ صَلْصَلَةً ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقْبَضُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو وحی محسوس ہوتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! میں آواز سنتا ہوں ، جیسے زنجیر کی آواز ہوتی ہے ، اور پھر جب وہ آواز آتی ہے ، تو میں خاموش ہو جاتا ہوں ، اور جب بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ، تو مجھے یوں لگتا ہے ، جیسے میری جان قبض ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13935
وَعَنْ خَدِيجَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَا ابْنَ عَمِّ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا جَاءَكَ الَّذِي يَأْتِيكَ أَنْ تُخْبِرَنِي [ بِهِ ] ؟ فَقَالَ [ لِي ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ يَا خَدِيجَةُ " ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَدِيجَةُ هَذَا صَاحِبِي الَّذِي يَأْتِينِي قَدْ جَاءَ " ، فَقُلْتُ لَهُ : قُمْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْمَنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَقُلْتُ لَهُ : تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْسَرِ ، فَجَلَسَ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَقُلْتُ لَهُ : تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ فِي حِجْرِي . فَجَلَسَ ، فَقُلْتُ لَهُ : تَرَاهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : فَتَحَسَّرْتُ وَطَرَحْتُ خِمَارِي وَقُلْتُ : هَلْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " لَا " ، فَقُلْتُ : هَذَا وَاللَّهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ ، وَاللَّهِ مَا هُوَ شَيْطَانٌ ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : فَقُلْتُ لِوَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ذَلِكَ مِمَّا أَخْبَرَنِي [ بِهِ ] مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَرَقَةُ : حَقًّا يَا خَدِيجَةُ حَدِيثُكُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اے چچا زاد ! کیا آپ یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ جو فرشتہ آپ کے پاس آتا ہے ، جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خدیجہ ! ٹھیک ہے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب ایک دن سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو میں اس وقت آپ کے پاس موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خدیجہ ! یہ میرا ساتھی میرے پاس آ گیا ہے ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ اُٹھیں اور آ کر میرے دائیں زانوں پر بیٹھ جائیں ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ اُسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے کہا: اب آپ منتقل ہو کر میرے بائیں زانوں پر بیٹھ جائیں ، آپ تشریف فرما ہوئے ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے آپ سے عرض کی : آپ منتقل ہو کر میری گود میں بیٹھ جائیں ، آپ بیٹھ گئے ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کلائیاں چڑھا لیں ، اور چادر اتار دی اور دریافت کیا : کیا اب آپ اُسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ کوئی معزز فرشتہ ہے ، اللہ کی قسم ! یہ شیطان نہیں ہے ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ورقہ بن نوفل سے اس بارے میں بات چیت کی ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا تھا ، تو ورقہ نے کہا: اے خدیجہ ! تمہاری بات ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13936
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ ؟ قَالَ : " يَأْتِينِي صَلْصَلَةً كَصَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَيَأْتِي أَحْيَانًا فِي صُورَةِ رَجُلٍ فَيُكَلِّمُنِي كَلَامًا ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيَّ ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : آپ کے پاس ( وحی ) کیسے آتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کبھی میرے پاس وحی اس طرح آتی ہے ، جیسے گھنٹی کی آواز ہوتی ہے ، کبھی فرشتہ میرے پاس انسان کی شکل میں آ جاتا ہے ، اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے ، اور یہ صورت میرے نزدیک زیادہ آسان ہوتی ہے ، جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے ، تو میں بات کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13937
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت سواری پر سوار ہوتے تھے تو اُس ( سواری ) کی گردن ٹوٹنے کے قریب ہو جاتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13938
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ أَخَذَتْهُ بُرَحَاءٌ شَدِيدَةٌ وَعَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا مِثْلَ الْجُمَانِ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ بِقِطْعَةِ الْعُسُبِ أَوْ كِسَرِهِ ، فَأَكْتُبُ وَهُوَ يُمْلِي عَلَيَّ ، فَمَا أَفْرُغُ حَتَّى تَكَادَ رِجْلِي تَنْكَسِرُ مِنْ ثِقَلِ الْقُرْآنِ ، حَتَّى أَقُولَ : لَا أَمْشِي عَلَى رِجْلِي أَبَدًا ، فَإِذَا فَرَغْتُ قَالَ : " اقْرَأْهُ " ، فَأَقْرَأُهُ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ سَقْطٌ أَقَامَهُ ، ثُمَّ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ پر شدید کپکپی طاری ہو جاتی تھی اور بہت زیادہ پسینہ آتا تھا ، جو موتیوں کی مانند ہوتا تھا ، پھر جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی تھی ، تو میں کوئی لکڑی یا ٹکڑا لے کر اُس پر وہ وحی تحریر کرتا تھا ، اور آپ وہ املاء کرواتے تھے ، ایک مرتبہ ایسی ہی کیفیت کے دوران ( آپ کا زانوں میری ٹانگ پر تھا ) تو قریب تھا کہ قرآن کے بوجھ کی وجہ سے میری ٹانگ ٹوٹ جائے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں اس ٹانگ پر کبھی نہیں چل سکوں گا ، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پڑھو ! میں نے اُسے پڑھا ، اُس دوران جو غلطی ہوتی تھی ، آپ اُسے ٹھیک کروا دیتے تھے ، پھر میں اسے لے کر لوگوں کے پاس چلا جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13939
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ ، وَبَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ الْفِيلِ عِشْرُونَ سَنَةً ، قَالَ : سَمُّوهُ الْفِجَارَ لِأَنَّهُمْ [ فَجَرُوا ] ، وَأَحَلُّوا أَشْيَاءَ كَانُوا يُحَرِّمُونَهَا ، وَكَانَ بَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَمَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسُ سِنِينَ ، فَبُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ ، قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ الْمَوْلُودَ فَقَطْ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے اور جنگ فجار اور عام الفیل کے درمیان میں سال کا فرق ہے ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے جنگ فجار کا نام اس لیے دیا ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے زیادتی کی تھی اور ان چیزوں کو حلال قرار دے دیا تھا ، جسے وہ حرام قرار دیتے تھے ، جنگ فجار اور خانہ کعبہ کی تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا وقفہ ہے ، اور خانہ کعبہ کی تعمیر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مہران سماک ہے اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مہران سماک ہے اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13940
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً مُهْدَاةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تحفے کے طور پر دی جانے والی رحمت کے طور پر مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13941
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " يَأْتِينِي جِبْرِيلُ عَلَى صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَكَانَ دِحْيَةُ رَجُلًا جَمِيلًا أَبْيَضَ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : جبرائیل میرے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں آتا ہے ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ ایک گورے چٹے خوبصورت شخص تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13942
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ ، قَالَ : ادْعُ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَدَعَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ . قَالَ : فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صُعِقَ ، فَأَتَاهُ فَتَغَشَّاهُ وَجَعَلَ يَمْسَحُ الْبُزَاقَ ، عَنْ شِدْقَيْهِ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے یہ فرمائش کی کہ آپ ان کی اصل شکل دیکھنا چاہتے ہیں ، تو انہوں نے کہا: آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے ، پھر مشرق کی طرف سے سیاہی نمودار ہونا شروع ہوئی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام بلند ہونے لگے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا ، تو آپ بے ہوش ہو گئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ لیا اور آپ کی باچھوں سے لعاب صاف کرنے لگے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13943
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ جِبْرِيلَ مُنْهَبِطًا قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، عَلَيْهِ ثِيَابُ سُنْدُسٍ مُعَلَّقًا بِهِ اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” میں نے جبرائیل کو نیچے کی طرف آتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے آسمان اور زمین کے درمیانی حصے کو بھرا ہوا تھا ، اور اُن پر سندس کا لباس تھا ، جس کے ساتھ موتی اور یاقوت لٹکے ہوئے تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔