کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پتھروں اور درختوں کا نبی اکرم ﷺ کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 13955
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أُوحِيَ إِلَيَّ - أَوْ نُبِّئْتُ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا جَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میری طرف وحی کی گئی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب مجھے نبی بنایا گیا ( راوی کو شک ہے ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) تو ” میں“ جس بھی پتھر ، یا درخت کے پاس سے گزرتا تھا ، تو وہ مجھے کہتا تھا : یا رسول اللہ ! آپ کو سلام ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13955
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2373)»
حدیث نمبر: 13956
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ عَلَى حَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالتَّابِعِيُّ أَبُو عِمَارَةَ الْحَيَوَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بھی درخت ، یا پتھر کے پاس سے گزرتے تھے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں تابعی ابوعمارہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13956
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف