مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ عُمُومِ بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا
حدیث نمبر: 13946
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى إِنَّ الْعَدُوَّ لَيَخَافُنِي مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ ، وَقِيلَ لِي : سَلْ تُعْطَهُ فَادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو بھی سفید فام یا سیام نام شخص ، میری امت میں داخل ہو گا ، وہ اُن میں شمار ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ دشمن ایک ماہ یا دو ماہ ( یہ شک راوی کو ہے ) کے فاصلے سے میرا خوف محسوس کرتا ہے ، اور مجھ سے یہ کہا: گیا : تم مانگو تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اپنی دعا کو اپنی اُمت کی شفاعت کے لئے سنبھال کے رکھ لیا ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔