مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ عُمُومِ بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ " . وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ ذَهَبَتَا عَنِّي ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّيَمُّمِ وَبَقِيَّتُهَا فِي الْخَصَائِصِ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرے استاد نے دو اور خصوصیات کا بھی ذکر کیا تھا ، جو مجھے بھول گئی ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے تیمم کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، اور بقیہ روایات ” خصائص “ سے متعلق باب میں آئیں گی ۔