کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ذمیوں کو سلام کرنا
❮
❯
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَارْدُدْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ مَجُوسِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : ( وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ) . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی تمہیں سلام کرے ، تم اسے جواب دو اگرچہ وہ مجوسی ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے زیادہ اچھے طریقے سے یا ( اس کی مانند ) جواب دو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12789
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1530)»
وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ :
مَشَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الْقَصْرِ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ تَمِيمَ بْنَ سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ .
محمد محی الدین
تمیم بن سلمہ بیان کرتے ہیں : اہل شرک سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ، جب وہ باب قصر تک پہنچے تو انہوں نے ان لوگوں کو سلام کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ تمیم بن سلمہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12790
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8955)»
وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ قَالَ :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ سَلَّمُوا عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : وَعَلَيْكُمْ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبح ہم یہودیوں کے پاس جائیں گے تو تم انہیں سلام میں پہل نہ کرنا ، اگر وہ تمہیں سلام کریں ، تو تم انہیں جواب میں ” وعلیکم “ کہہ دینا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” جب ہم ان کے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے کہا: وعلیکم ۔ “ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2164 و 2163 و 2162) اخرجه احمد فى المسند (398/6) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 26695، 26693، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2162»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : نُهِينَاهُ - أَوْ قَالَ : أُمِرْنَا - أَنْ لَا نَزِيدَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَلَى : " وَعَلَيْكُمْ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم اہل کتاب کو ( سلام کا جواب دیتے ہوئے ) ” وعلیکم “ سے زیادہ کچھ نہ کہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (99/3)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : " لَا " .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا اسْتِئْذَانَ عُمَرَ فِي قَتْلِهِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور بولا: السام علیکم ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (210/3) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 11705، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 9838»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ :
كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسٍ ، فَمَرَّ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ ، سَلَّمَ . قَالَ : " فَإِنَّهُ قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، أَيْ : تُسَامُونَ دِينَكُمْ ، رُدُّوهُ عَلَيَّ ، كَيْفَ قُلْتَ ؟ " . فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا : عَلَيْكُمْ ، أَيْ : عَلَيْكُمْ مَا قُلْتُمْ " .
قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک محفل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، ایک یہودی گزرا ، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اسے سلام کا جواب دیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس نے کیا کہا: ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں اس نے سلام کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے یہ کہا: ہے السام علیکم ، یعنی تمہارے دین کے حوالے سے تمہیں اکتاہٹ ہو جائے ، تم اسے میرے پاس واپس لاؤ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ) تم نے کیا کہا: تھا ؟ اس نے کہا: السام علیکم ( کہا: تھا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب اہل کتاب تم لوگوں کو سلام کریں تو تم کہو : علیکم ، یعنی تم نے جو کہا: ہے یہ چیز تم پر آئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12794
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2010) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3089) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 12828، 13355، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 7097»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ :
بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ : ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ . فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص آیا جس کا نام ثعلبہ بن حارث تھا ، اس نے کہا: السام علیک یا محمد ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وعلیک ( یعنی تمہیں بھی آئے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12795
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5014) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5014»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" لَا تُصَافِحُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مصافحہ نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12796
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7296»