عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : ¤ أَنَّهُ لَمَّا نَزَلَ عُذْرُهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَبَّلَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ان کی معافی کا حکم نازل ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ کی دست بوسی کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ قَالَ : ¤ لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْتُ : بَايَعْتَ بِيَدِكَ هَذِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : أَعْطِنِي يَدَكَ أُقَبِّلْهَا . فَأَعْطَانِيهَا ، فَقَبَّلْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ الْفَزَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن حارث ذماری بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا: آپ نے اپنے اس ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو میں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں اسے بوسہ دوں ۔ انہوں نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو میں نے اس کو بوسہ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک فزاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک فزاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : ¤ بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي هَذِهِ ، فَقَبَّلْنَاهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الْبَيْعَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن رزین سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں : انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے اس ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ( راوی کہتے ہیں : ) تو ہم نے ان کے ہاتھ کو بوسہ دیا ، تو انہوں نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس میں سے بیعت کرنے والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس میں سے بیعت کرنے والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَبَّلَ يَدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو بوسہ دیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس حدیث کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس حدیث کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔