مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ باب: ذمیوں کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 12793
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا اسْتِئْذَانَ عُمَرَ فِي قَتْلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور بولا: السام علیکم ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔