مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ إِرْسَالِ السَّلَامِ باب: سلام بھیجنا
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : جَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، فَدَخَلَا عَلَيْهِ فِي حِصْنٍ فِي نَاحِيَةِ الْمَدَائِنِ ، فَأَتَيَاهُ ، فَسَلَّمَا عَلَيْهِ وَحَيَّيَاهُ ، ثُمَّ قَالَا : أَنْتَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَا : أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . فَارْتَابَا وَقَالَا : لَعَلَّهُ لَيْسَ الَّذِي نُرِيدُ ، قَالَ لَهُمَا : أَنَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تُرِيدَانِ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَالَسْتُهُ ، فَإِنَّمَا صَاحِبُهُ مَنْ دَخَلَ مَعَهُ الْجَنَّةَ ، فَمَا حَاجَتُكُمَا ؟ قَالَا : جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ أَخٍ لَكَ بِالشَّامِ . فَقَالَ : مَنْ هُوَ ؟ قَالَا : أَبُو الدَّرْدَاءِ . قَالَ : فَأَيْنَ هَدِيَّتُهُ الَّتِي أَرْسَلَ بِهَا مَعَكُمَا ؟ قَالَا : مَا أَرْسَلَ مَعَنَا هَدِيَّةً . قَالَ : اتَّقِيَا اللَّهَ وَأَدِّيَا الْأَمَانَةَ ، مَا جَاءَنِي أَحَدٌ مِنْ عِنْدِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ بِهَدِيَّةٍ . قَالَا : لَا يَرْفَعُ عَلَيْنَا هَذَا ، إِنَّ لَنَا أَمْوَالًا فَاحْتَكِمْ فِيهَا . قَالَ : مَا أُرِيدُ أَمْوَالَكُمَا ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ الْهَدِيَّةَ الَّتِي بَعَثَ بِهَا مَعَكُمَا . قَالَا : وَاللَّهِ مَا بَعَثَ مَعَنَا بِشَيْءٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَنَا : إِنَّ فِيكُمْ رَجُلًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَلَا بِهِ لَمْ يَبْغِ أَحَدًا غَيْرَهُ ، فَإِذَا أَتَيْتُمَاهُ فَأَقْرِئَاهُ مِنِّي السَّلَامَ . قَالَ : فَأَيُّ هَدِيَّةٍ كَنْتُ أُرِيدُ مِنْكُمَا غَيْرَ هَذِهِ ؟ وَأَيُّ هَدِيَّةٍ أَفْضَلُ مِنَ السَّلَامِ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَسْعُودِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ابوالبختری بیان کرتے ہیں : ابواشعث بن قیس اور جریر بن عبداللہ بجلی سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، یہ دونوں حضرات مدائن کے نواحی علاقے میں موجود ایک قلعے میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، ان دونوں حضرات نے انہیں سلام کیا ، پھر ان دونوں نے دریافت کیا : کیا آپ سلمان فارسی ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ان دونوں نے دریافت کیا : کیا آپ اللہ کے رسول کے ساتھی ہیں ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، ان دونوں کو اس بارے میں شک ہوا ، ان دونوں نے سوچا کہ شاید یہ وہ والے فرد نہیں ہیں ، جن سے ہم ملنا چاہتے ہیں ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا کہ میں تمہارا وہی متعلقہ فرد ہوں جس سے تم ملنا چاہتے ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی وہ ہو گا ، جو آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہو گا ، تم دونوں کو کیا کام ہے ؟ ان دونوں نے جواب دیا : ہم دونوں آپ کے پاس شام میں موجود آپ کے بھائی کی طرف سے آئے ہیں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ کون ہیں ؟ ان دونوں نے جواب دیا : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس کا تحفہ کہاں ہے جو اس نے تم دونوں کے ہمراہ بھیجا ہے ، تو ان دونوں نے جواب دیا : انہوں نے تو ہمارے ساتھ کوئی تحفہ نہیں بھیجا ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم دونوں اللہ سے ڈرو اور امانت ادا کرو ، اس کے پاس سے جو بھی شخص میرے پاس آتا ہے وہ اس کی طرف سے تحفہ ساتھ لاتا ہے ، ان دونوں نے کہا: یہ چیز ہمارے سامنے نہ اٹھائی جائے ، ہمارے پاس اپنا مال ہے ، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں ارشاد فرمائیں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم دونوں کا مال نہیں چاہتا ، میں وہ تحفہ چاہتا ہوں ، جو اس نے تم دونوں کے ہمراہ بھیجا ہو گا ، تو ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمارے ہمراہ کوئی چیز نہیں بھیجی ، البتہ انہوں نے ہم سے یہ کہا: تھا کہ تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کے ساتھ تنہا ہوتے تھے ، تو آپ اس کی موجودگی میں کسی اور کے ساتھ ہونے کے طلب گار نہیں ہوتے تھے ، تو جب تم دونوں اس کے پاس جاؤ ، تو اسے میری طرف سے سلام کہنا ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہی تو وہ تحفہ ہے جو میں تم سے حاصل کرنا چاہ رہا تھا ، سلام سے زیادہ اچھا تحفہ اور کون سا ہو سکتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحیت ہے ، برکت والی چیز ہے اور پاکیزہ چیز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یحیی بن ابراہیم مسعودی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔