حدیث نمبر: 12794
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ¤ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسٍ ، فَمَرَّ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ ، سَلَّمَ . قَالَ : " فَإِنَّهُ قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، أَيْ : تُسَامُونَ دِينَكُمْ ، رُدُّوهُ عَلَيَّ ، كَيْفَ قُلْتَ ؟ " . فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا : عَلَيْكُمْ ، أَيْ : عَلَيْكُمْ مَا قُلْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک محفل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، ایک یہودی گزرا ، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اسے سلام کا جواب دیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس نے کیا کہا: ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں اس نے سلام کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے یہ کہا: ہے السام علیکم ، یعنی تمہارے دین کے حوالے سے تمہیں اکتاہٹ ہو جائے ، تم اسے میرے پاس واپس لاؤ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ) تم نے کیا کہا: تھا ؟ اس نے کہا: السام علیکم ( کہا: تھا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب اہل کتاب تم لوگوں کو سلام کریں تو تم کہو : علیکم ، یعنی تم نے جو کہا: ہے یہ چیز تم پر آئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12794
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2010) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3089)»