مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ باب: ذمیوں کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 12791
وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ قَالَ : ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ سَلَّمُوا عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : وَعَلَيْكُمْ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبح ہم یہودیوں کے پاس جائیں گے تو تم انہیں سلام میں پہل نہ کرنا ، اگر وہ تمہیں سلام کریں ، تو تم انہیں جواب میں ” وعلیکم “ کہہ دینا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ” جب ہم ان کے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے کہا: وعلیکم ۔ “ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔