مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ باب: ذمیوں کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 12795
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : ¤ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ : ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ . فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص آیا جس کا نام ثعلبہ بن حارث تھا ، اس نے کہا: السام علیک یا محمد ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وعلیک ( یعنی تمہیں بھی آئے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔