مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ باب: ذمیوں کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 12789
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَارْدُدْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ مَجُوسِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : ( وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ) . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی تمہیں سلام کرے ، تم اسے جواب دو البتہ اگر وہ مجوسی ہو تو اس کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے زیادہ اچھے طریقے سے یا ( اس کی مانند ) جواب دو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔