کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِمَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ بُولَانُ حَتَّى يُقَاتِلُوا بَنِي الْأَصْفَرِ ، يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ، فَيَهْدِمُ حِصْنَهَا وَحَتَّى يُقَسِّمُوا الْمَالَ بِالْأَتْرِسَةِ " . قَالَ : " ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ : يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَدِيَارِكُمْ . فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا الصَّارِخُ ؟ فَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ ، فَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةً تَنْظُرُ هَلْ هُوَ الْمَسِيحُ فَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِمْ فَيَقُولُونَ : لَمْ نَرَ شَيْئًا وَلَمْ نَسْمَعْهُ . فَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ ، وَاللَّهِ مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا مِنَ السَّمَاءِ أَوْ مِنَ الْأَرْضِ ، تَعَالَوْا نَخْرُجْ بِأَجْمَعِنَا ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ بِهَا نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ، وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ وَعَشَائِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک مسلمانوں کے رابطے کی جگہ ” بولان “ نامی جگہ نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ بنو اصفر کے ساتھ جنگ کریں گے ، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر دے گا ، جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہو گا ، وہاں کے قلعے کو مسمار کر دیا جائے گا ، اور وہ لوگ مال کو ڈھالوں میں رکھ کے تقسیم کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : اے اہل اسلام ! تمہارے علاقوں میں اور تمہارے شہروں میں دجال نکل آیا ، تو وہ لوگ کہیں گے یہ پکارنے والا شخص کون ہے ؟ وہ لوگ یہ نہیں جانیں گے کہ وہ کون ہے ؟ پھر وہ ایک شخص کو بھیجیں گے ، تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کیا دجال آ گیا ہے ، وہ آگے جانے والے لوگ واپس آ کر یہ بتائیں گے کہ ہمیں تو کوئی چیز نہیں دکھائی دی ، اور ہم نے تو یہ بات نہیں سنی ، تو وہ لوگ کہیں گے : اللہ کی قسم ! اس پکارنے والے نے آسمان سے پکارا ہو گا یا زمین سے پکارا ہو گا ، چلو آؤ ہم سب نکلتے ہیں ، اگر تو دجال نکل آیا ہوا ، تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ دیدے اور وہ بہترین فیصلہ دینے والا ہے ، اور اگر دوسری صورت حال ہوئی ، تو وہ تمہارے علاقے ہیں ، تمہارے لشکر ہیں ، تمہارے خاندان وہاں ہے ، تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3386)»
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى حَسِبْتُ - وَذَكَرَ كَلِمَةً - أَلَا وَإِنَّهُ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ لَيْسَتْ بِقَائِمَةٍ وَلَا جَحْرَاءَ ، فَإِنِ الْتَبَسَ عَلَيْكُ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں دجال کے بارے میں بتانے والا تھا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : خبردار ! وہ ایک کوتاہ قامت کا شخص ہو گا ، جس کے دو زانوں کے درمیان کی جگہ چوڑی ہو گی ، وہ گھنگریالے بالوں والا کانا شخص ہو گا ، جس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، نہ تو وہ قائم ہو گی اور نہ ہی وہ خالی گڑھا ہو گی ، اگر تمہیں اس حوالے سے الجھن ہے ، تو تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم اپنے پروردگار کا دیدار اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک تم مر نہیں جاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3389)»
وَعَنْ نَهْيِكِ بْنِ صُرَيْمٍ السَّكُونِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتُقَاتِلُنَّ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُقَاتِلَ بَقِيَّتُكُمُ الدَّجَّالَ عَلَى نَهْرِ الْأُرْدُنِّ أَنْتُمْ شَرْقِيَّهُ وَهُمْ غَرْبِيَّهُ " ، وَلَا أَدْرِي أَيْنَ الْأُرْدُنُّ يَوْمَئِذٍ [ مِنَ الْأَرْضِ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نہیک بن صریم سکونی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ضرور مشرکین کے ساتھ جنگ کرو گے ، یہاں تک کہ تمہارے باقی رہ جانے والے لوگ نہر اردن کے پاس دجال کے ساتھ جنگ کریں گے ، تم مشرق کی سمت میں ہو گے ، اور وہ مغربی سمت میں ہو گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم اس وقت اردن زمین میں کہاں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3387)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ أَعْوَرُ الدَّجَّالِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِي زَمَنِ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَفُرْقَةٍ ، فَيَبْلُغُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ مِنَ الْأَرْضِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا ، فَيَلْقَى الْمُؤْمِنُونَ شِدَّةً شَدِيدَةً . ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السَّمَاءِ فَيَؤُمُّ النَّاسَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ رَكْعَتِهِ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَتَلَ اللَّهُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ " . فَأَحْلِفُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ لَحَقٌّ ، وَأَمَّا أَنَّهُ قَرِيبٌ فَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ہیں ، انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” کانا دجال جو گمراہی والا ہو گا وہ مشرق کی طرف سے اس وقت نکلے گا ، جب لوگوں کے درمیان اختلافات اور فرقہ بندی پائی جاتی ہو گی اور وہ چالیس دن تک جہاں تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہاں تک جائے گا ، اس کی مقدار کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے ، مومنین کو اس دوران سخت مشکل کا سامنا ہو گا ، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ، وہ لوگوں کی امامت کریں گے ، پھر جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے ، اور سمع اللہ لمن حمدہ کہیں گے ، تو اللہ تعالیٰ دجال کو مار دے گا ، اور مسلمان غلبہ پا لیں گے ۔ “ میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ سیدنا ابوالقاسم صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” بات حق ہے اور یہ بات قریب ہے ، جو چیز بھی آنے والی ہو وہ قریب ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن منذر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3396)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مَدِينَةَ هِرَقْلَ أَوْ قَيْصَرَ وَتَقْتَسِمُونَ أَمْوَالَهَا بِالتِّرْسَةِ ، وَيُسْمِعُهُمُ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي أَهَالِيهِمْ ، فَيُلْقُونَ مَا مَعَهُمْ وَيَخْرُجُونَ فَيُقَاتِلُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ عنقریب ہرقل ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) قیصر کا شہر فتح کر لو گے ، اور تم وہاں کے اموال کو ڈھالوں میں ڈال کے تقسیم کرو گے ، اسی دوران کوئی شخص پکار کر کہے گا : تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں میں دجال آ چکا ہے ، تو وہ لوگ اپنے پاس موجود سب چیزوں کو ایک طرف رکھیں گے ، اور نکل کھڑے ہوں گے ، اور جنگ کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (627)»
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْزِلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ وَلَكِنَّهُ بَيْنَ الْخَنْدَقِ ، وَعَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةٌ يَحْرُسُونَهَا ، فَأَوَّلُ مَنْ يَتَّبِعُهُ النِّسَاءُ فَيُؤْذُونَهُ ، فَيَرْجِعُ غَضْبَانَ حَتَّى يَنْزِلَ الْخَنْدَقَ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُقْبَةَ بْنِ مُكْرَمِ بْنِ عُقْبَةَ الضَّبِّيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا بلکہ وہ خندق کے درمیان ٹھہرے گا ، مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے موجود ہوں گے جو اس شہر کی حفاظت کر رہے ہوں گے ، سب سے پہلے اس کی پیروی کرنے والی عورتیں ہوں گی ، وہ لوگ اسے اذیت پہنچائیں گے ، یہاں تک کہ وہ غصے کے عالم میں واپس جائے گا ، یہاں تک کہ خندق کے پاس پڑاؤ کرے گا ، اس وقت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عقبہ بن مکرم بن عقبہ ضبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَذْكُرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ : " إِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ كَلِمَةً مَا قَالَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ كِتَابٌ كَافِرٌ " ، قَالَ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ، يَسِيحُ فِي الْأَرْضَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، يَرِدُ كُلَّ بَلَدٍ غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ : الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ ، يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِهِ كَالسَّنَةِ ، وَيَوْمٌ كَالشَّهْرِ ، وَيَوْمٌ كَالْجُمُعَةِ ، وَبَقِيَّةُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ ، لَا يَبْقَى إِلَّا أَرْبَعِينَ يَوْمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاؤں گا ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی ، وہ کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، اور دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ۔ “ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی بات نقل کرتے ہیں : ہر مومن شخص خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ، اس لفظ کو پڑھ سکے گا ، دجال زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، وہ ہر شہر تک پہنچ جائے گا ، صرف ان دو شہروں تک نہیں آ سکے گا ، مدینہ اور مکہ ، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں شہروں کو اس کے لئے حرام قرار دیا ہے ۔ اس کے دنوں میں سے ایک دن ایک سال کا ہو گا ، ایک دن ایک مہینے کا ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کا ہو گا اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے وہ صرف چالیس دن رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشْفَعُ ، وَسَيُدْرِكُ رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَيَشْهَدُونَ قِتَالَ الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ وَاهِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا فرد اور شفاعت کرنے والا سب سے پہلا فرد ” میں “ ہوؤں گا ، اور میری امت کے کچھ افراد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور وہ دجال کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن واہب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2820)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيُدْرِكَنَّ الدَّجَّالَ مَنْ أَدْرَكَنِي أَوْ لَيَكُونَنَّ قَرِيبًا مِنْ مَوْتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ شُعَيْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دجال کو وہ لوگ پا لیں گے جنہوں نے مجھے پایا ہے ، یا پھر وہ میرے انتقال کے قریب ہی ظاہر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عیسیٰ بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12548
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخَذَ مِرْفَقَتَهُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا . قُلْنَا : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . قَالَ بَعْضُنَا : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، إِنَّا لَنُحَدِّثُ عَنْكَ أَحَادِيثَ . قَالَ : إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَأْخُذُونَ الْأَحَادِيثَ مِنْ أَسَافِلِهَا وَلَا تَأْخُذُونَهَا مِنْ أَعَالِيهَا . وَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : أَبِأَرْضِكُمْ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا كُوثًا ذَاتُ سِبَاخٍ وَنَخْلٍ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : فَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عریان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : میں یزید بن معاویہ کے پاس آیا ، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے ان کی کہنی پکڑی اور انہیں ٹیک دی ، ہم نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو کسی نے بتایا : یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، ہم میں سے کسی نے کہا: اے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کے حوالے سے احادیث سنتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اے اہل عراق تم لوگ ہر نیچے کے طبقے سے حدیث حاصل کر لیتے ہو اور بلند طبقے سے حاصل نہیں کرتے ہو ، لوگوں نے دجال کا ذکر کیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ نے دریافت کیا : کیا تمہارے علاقے میں کوئی ایسی جگہ ہے جس کا نام ” کوثا “ ہو گا ، جو شوریدہ زمین ہو اور وہاں کھجوروں کے درخت بھی ہوں ، تو ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا : دجال وہاں سے نکلے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " مَا شُبِّهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، يَخْرُجُ فَيَكُونُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يَرِدُ مِنْهَا كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْكَعْبَةَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ وَالْمَدِينَةَ ، الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ ، وَمَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ، مَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ ، يَدْعُو بِرَجُلٍ لَا يُسَلِّطُهُ اللَّهُ إِلَّا عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ : مَا تَقُولُ فِيَّ ؟ فَيَقُولُ : أَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ ، وَأَنْتَ الدَّجَّالُ الْكَذَّابُ . فَيَدْعُو بِمِنْشَارٍ فَيَضَعُهُ حَذْوَ رَأْسِهِ فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ : مَا تَقُولُ ؟ فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي فِيكَ الْآنَ ، أَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ الدَّجَّالُ الَّذِي أَخْبَرَنَا عَنْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : " فَيَهْوِي إِلَيْهِ بِسَيْفِهِ فَلَا يَسْتَطِيعُهُ فَيَقُولُ : أَخِّرُوهُ عَنِّي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تمہیں اس کے حوالے سے کوئی اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، دجال نکلے گا وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا ، وہ صرف خانہ کعبہ بیت المقدس اور مدینہ منورہ تک نہیں پہنچ سکے گا ( اس وقت ) ایک مہینہ ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، ایک ہفتہ ایک دن کی مانند ہو گا ، دجال کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کی جہنم درحقیقت جنت ہو گی اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ ہو گا ، اور پانی کی نہر ہو گی وہ ایک شخص کو بلائے گا ، اللہ تعالیٰ دجال کو صرف اسی شخص پر تسلط دے گا ، دجال دریافت کرے گا : میرے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : تم اللہ کے دشمن ہو ، تم دجال کذاب ہو ، تو دجال آرا منگوائے گا اور وہ اس کے سر پر رکھ دے گا ، اور وہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دے گا ، یہاں تک کہ اس شخص کی لاش زمین پر گر جائے گی ، پھر دجال اسے زندہ کرے گا ، اور دریافت کرے گا : تم کیا کہتے ہو ، تو وہ شخص کہے گا : اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں جتنی بصیرت مجھے اس وقت حاصل ہے ۔ اس سے پہلے حاصل نہیں تھی ، تم اللہ کے دشمن دجال ہو ، جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا ، ہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر دجال اپنی تلوار اس کی طرف بڑھائے گا ، لیکن اس پر ق ابونہیں پا سکے گا ، تو یہ کہے گا : اسے میرے پاس سے دور کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُكُمْ مِنْهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ . أَلَا وَإِنَّهُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ كَأَنَّهُ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ الْخُزَاعِيُّ ، أَلَا وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، أَلَا وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا . يَا عِبَادَ اللَّهِ ، اثْبُتُوا " . ثَلَاثًا . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " كَالسَّحَابِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا مُكْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ يَوْمًا ، يَوْمٌ مِنْهَا كَسَنَةٍ ، وَيَوْمٌ مِنْهَا كَشَهْرٍ ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ ، وَسَائِرُهَا كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ يَوْمَئِذٍ صَلَاةُ يَوْمٍ أَوْ نُقَدِّرُ لَهُ ؟ قَالَ : " بَلِ اقْدُرُوا لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا ، تو میں تمہارے حوالے سے اس کے لئے رکاوٹ بن جاؤں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوا ، تو ہر شخص اپنی حفاظت خود کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ میری جگہ ہر مسلمان کا نگہبان ہو گا ، خبردار ! اس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، وہ عبدالعزیٰ بن قطن خزاعی کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا ، خبردار ! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا ، تم میں سے جو شخص اس سے ملے وہ اس کے سامنے سورت فاتحہ پڑھ لے ، خبردار ! میں نے اسے دیکھا ہے کہ وہ شام اور عراق کے درمیان موجود ایک جگہ سے نکلے گا اور دائیں اور بائیں طرف جائے گا : اے اللہ کے بندو ! تم ثابت قدم رہنا ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! زمین میں اس کے چلنے کی رفتار کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس طرح وہ بادل ہوتا ہے ، جسے ہوا لے کے چلتی ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چالیس دن رہے گا ، جن میں سے ایک دن ایک سال کی مانند ہو گا ، ان میں سے ایک دن ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کی مانند ہو گا اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس موقع پر نماز کو کیسے ادا کریں گے ؟ ایک دن کی نماز ادا کریں گے یا اندازہ لگا لیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم اس کے لئے اندازہ لگا لو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " لَا تَفْعَلِي ، فَإِنَّهُ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ يَكْفِكُمُ اللَّهُ رَبِّي ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ يَكْفِكُمُوهُ بِالصَّالِحِينَ " . ثُمَّ قَامَ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ ، وَإِنِّي أُحَذِّرُكُمُوهُ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے : ایک رات میں نے دجال کا ذکر کیا تو مجھے نیند نہیں آئی ، جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسے نہ کرو ، اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا ، تو اللہ میرے ذریعے تمہاری کفایت کرے گا ، اور اگر وہ میرے مرنے کے بعد نکلا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں نیک لوگوں کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ، آپ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور میں بھی تمہیں اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں وہ کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، خبردار ! دجال کی ایک آنکھ پھولے ہوئے انگور کی مانند ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد أحمد بن محمد بن نافع طحان کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (268/23)»
وَعَنْ أَبِي صَادِقٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَهْلَ أَبْيَاتٍ يُفْزِعُهُمُ الدَّجَّالُ . قَالُوا : مَنْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : بُيُوتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَادِقٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوصادق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” میں ان گھرانے والوں کے بارے میں جانتا ہوں جنہیں دجال خوف زدہ کرے گا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ انہوں نے جواب دیا : کوفہ کے لوگ ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوصادق نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8509)»
وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : لَا تُكْثِرُوا ذِكْرَهُ ، فَإِنَّهُ الْأَمْرَ إِذَا قُضِيَ فِي السَّمَاءِ كَانَ أَسْرَعَ لِنُزُولِهِ إِلَى الْأَرْضِ أَنْ يَظْهَرَ عَلَى أَلْسِنَةِ النَّاسِ ، وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ آمِنُونَ وَأَنْتُمْ خَائِفُونَ ؟ وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ فِي الظِّلِّ وَأَنْتُمْ فِي الضُّحِ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ " . ¤
محمد محی الدین
ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس کا ذکر کثرت سے نہ کرو کیونکہ جب آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ ہو جائے ، تو وہ زمین کی طرف زیادہ تیزی سے اس وقت نازل ہوتا ہے ، جب وہ لوگوں کی زبانوں پر ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا ، جب دشمن امن میں ہو گا اور تم خوف کے عالم میں ہو گے ، اس وقت تمہارا کیا بنے گا ، جب دشمن سائے میں ہو گا اور تم لوگ دھوپ میں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام أحمد نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا ، جب تک لوگ اس کے تذکرے سے غافل نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ ائمہ منبروں پر اس کا ذکر کرنا ترک کر دیں گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8510)»
وَعَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ خَرَجَ لَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ أَصْبَحَ بِبَابِلَ أَصْبَحَ بَعْضُهُمْ [ يَشْكُو ] إِلَيْهِ الْحَفَاءَ مِنَ السُّرْعَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ خَيْثَمَةَ لَمْ أَجِدْ مَنْ قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
خیثمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ اللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو کسی نے کہا: اگر وہ نکل آیا تو ہم اسے پتھر ماریں گے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ بابل میں ہو ، تو ان میں سے کچھ لوگ جلدبازی کی وجہ سے ننگے پاؤں ہونے کی ، اس سے شکایت کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ خیثمہ نامی راوی کے بارے میں ، میں نے یہ بات نہیں پائی کہ یہ کسی نے یہ بات بیان کی ہو کہ اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8511)»