مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخَذَ مِرْفَقَتَهُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا . قُلْنَا : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . قَالَ بَعْضُنَا : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، إِنَّا لَنُحَدِّثُ عَنْكَ أَحَادِيثَ . قَالَ : إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَأْخُذُونَ الْأَحَادِيثَ مِنْ أَسَافِلِهَا وَلَا تَأْخُذُونَهَا مِنْ أَعَالِيهَا . وَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : أَبِأَرْضِكُمْ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا كُوثًا ذَاتُ سِبَاخٍ وَنَخْلٍ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : فَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عریان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : میں یزید بن معاویہ کے پاس آیا ، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے ان کی کہنی پکڑی اور انہیں ٹیک دی ، ہم نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو کسی نے بتایا : یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، ہم میں سے کسی نے کہا: اے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کے حوالے سے احادیث سنتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اے اہل عراق تم لوگ ہر نیچے کے طبقے سے حدیث حاصل کر لیتے ہو اور بلند طبقے سے حاصل نہیں کرتے ہو ، لوگوں نے دجال کا ذکر کیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ نے دریافت کیا : کیا تمہارے علاقے میں کوئی ایسی جگہ ہے جس کا نام ” کوثا “ ہو گا ، جو شوریدہ زمین ہو اور وہاں کھجوروں کے درخت بھی ہوں ، تو ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا : دجال وہاں سے نکلے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔