مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " مَا شُبِّهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، يَخْرُجُ فَيَكُونُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يَرِدُ مِنْهَا كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْكَعْبَةَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ وَالْمَدِينَةَ ، الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ ، وَمَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ، مَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ ، يَدْعُو بِرَجُلٍ لَا يُسَلِّطُهُ اللَّهُ إِلَّا عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ : مَا تَقُولُ فِيَّ ؟ فَيَقُولُ : أَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ ، وَأَنْتَ الدَّجَّالُ الْكَذَّابُ . فَيَدْعُو بِمِنْشَارٍ فَيَضَعُهُ حَذْوَ رَأْسِهِ فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ : مَا تَقُولُ ؟ فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي فِيكَ الْآنَ ، أَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ الدَّجَّالُ الَّذِي أَخْبَرَنَا عَنْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : " فَيَهْوِي إِلَيْهِ بِسَيْفِهِ فَلَا يَسْتَطِيعُهُ فَيَقُولُ : أَخِّرُوهُ عَنِّي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تمہیں اس کے حوالے سے کوئی اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، دجال نکلے گا وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا ، وہ صرف خانہ کعبہ بیت المقدس اور مدینہ منورہ تک نہیں پہنچ سکے گا ( اس وقت ) ایک مہینہ ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، ایک ہفتہ ایک دن کی مانند ہو گا ، دجال کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کی جہنم درحقیقت جنت ہو گی اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ ہو گا ، اور پانی کی نہر ہو گی وہ ایک شخص کو بلائے گا ، اللہ تعالیٰ دجال کو صرف اسی شخص پر تسلط دے گا ، دجال دریافت کرے گا : میرے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : تم اللہ کے دشمن ہو ، تم دجال کذاب ہو ، تو دجال آرا منگوائے گا اور وہ اس کے سر پر رکھ دے گا ، اور وہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دے گا ، یہاں تک کہ اس شخص کی لاش زمین پر گر جائے گی ، پھر دجال اسے زندہ کرے گا ، اور دریافت کرے گا : تم کیا کہتے ہو ، تو وہ شخص کہے گا : اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں جتنی بصیرت مجھے اس وقت حاصل ہے ۔ اس سے پہلے حاصل نہیں تھی ، تم اللہ کے دشمن دجال ہو ، جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا ، ہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر دجال اپنی تلوار اس کی طرف بڑھائے گا ، لیکن اس پر ق ابونہیں پا سکے گا ، تو یہ کہے گا : اسے میرے پاس سے دور کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔