حدیث نمبر: 12540
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِمَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ بُولَانُ حَتَّى يُقَاتِلُوا بَنِي الْأَصْفَرِ ، يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ، فَيَهْدِمُ حِصْنَهَا وَحَتَّى يُقَسِّمُوا الْمَالَ بِالْأَتْرِسَةِ " . قَالَ : " ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ : يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَدِيَارِكُمْ . فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا الصَّارِخُ ؟ فَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ ، فَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةً تَنْظُرُ هَلْ هُوَ الْمَسِيحُ فَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِمْ فَيَقُولُونَ : لَمْ نَرَ شَيْئًا وَلَمْ نَسْمَعْهُ . فَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ ، وَاللَّهِ مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا مِنَ السَّمَاءِ أَوْ مِنَ الْأَرْضِ ، تَعَالَوْا نَخْرُجْ بِأَجْمَعِنَا ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ بِهَا نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ، وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ وَعَشَائِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک مسلمانوں کے رابطے کی جگہ ” بولان “ نامی جگہ نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ بنو اصفر کے ساتھ جنگ کریں گے ، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر دے گا ، جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہو گا ، وہاں کے قلعے کو مسمار کر دیا جائے گا ، اور وہ لوگ مال کو ڈھالوں میں رکھ کے تقسیم کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : اے اہل اسلام ! تمہارے علاقوں میں اور تمہارے شہروں میں دجال نکل آیا ، تو وہ لوگ کہیں گے یہ پکارنے والا شخص کون ہے ؟ وہ لوگ یہ نہیں جانیں گے کہ وہ کون ہے ؟ پھر وہ ایک شخص کو بھیجیں گے ، تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کیا دجال آ گیا ہے ، وہ آگے جانے والے لوگ واپس آ کر یہ بتائیں گے کہ ہمیں تو کوئی چیز نہیں دکھائی دی ، اور ہم نے تو یہ بات نہیں سنی ، تو وہ لوگ کہیں گے : اللہ کی قسم ! اس پکارنے والے نے آسمان سے پکارا ہو گا یا زمین سے پکارا ہو گا ، چلو آؤ ہم سب نکلتے ہیں ، اگر تو دجال نکل آیا ہوا ، تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ دیدے اور وہ بہترین فیصلہ دینے والا ہے ، اور اگر دوسری صورت حال ہوئی ، تو وہ تمہارے علاقے ہیں ، تمہارے لشکر ہیں ، تمہارے خاندان وہاں ہے ، تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3386)»