مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " لَا تَفْعَلِي ، فَإِنَّهُ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ يَكْفِكُمُ اللَّهُ رَبِّي ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ يَكْفِكُمُوهُ بِالصَّالِحِينَ " . ثُمَّ قَامَ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ ، وَإِنِّي أُحَذِّرُكُمُوهُ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے : ایک رات میں نے دجال کا ذکر کیا تو مجھے نیند نہیں آئی ، جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسے نہ کرو ، اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا ، تو اللہ میرے ذریعے تمہاری کفایت کرے گا ، اور اگر وہ میرے مرنے کے بعد نکلا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں نیک لوگوں کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ، آپ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور میں بھی تمہیں اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں وہ کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، خبردار ! دجال کی ایک آنکھ پھولے ہوئے انگور کی مانند ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد أحمد بن محمد بن نافع طحان کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔