مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى حَسِبْتُ - وَذَكَرَ كَلِمَةً - أَلَا وَإِنَّهُ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ لَيْسَتْ بِقَائِمَةٍ وَلَا جَحْرَاءَ ، فَإِنِ الْتَبَسَ عَلَيْكُ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں دجال کے بارے میں بتانے والا تھا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : خبردار ! وہ ایک کوتاہ قامت کا شخص ہو گا ، جس کے دو زانوں کے درمیان کی جگہ چوڑی ہو گی ، وہ گھنگریالے بالوں والا کانا شخص ہو گا ، جس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، نہ تو وہ قائم ہو گی اور نہ ہی وہ خالی گڑھا ہو گی ، اگر تمہیں اس حوالے سے الجھن ہے ، تو تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم اپنے پروردگار کا دیدار اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک تم مر نہیں جاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔