مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ أَعْوَرُ الدَّجَّالِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِي زَمَنِ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَفُرْقَةٍ ، فَيَبْلُغُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ مِنَ الْأَرْضِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا ، فَيَلْقَى الْمُؤْمِنُونَ شِدَّةً شَدِيدَةً . ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السَّمَاءِ فَيَؤُمُّ النَّاسَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ رَكْعَتِهِ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَتَلَ اللَّهُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ " . فَأَحْلِفُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ لَحَقٌّ ، وَأَمَّا أَنَّهُ قَرِيبٌ فَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ہیں ، انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” کانا دجال جو گمراہی والا ہو گا وہ مشرق کی طرف سے اس وقت نکلے گا ، جب لوگوں کے درمیان اختلافات اور فرقہ بندی پائی جاتی ہو گی اور وہ چالیس دن تک جہاں تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہاں تک جائے گا ، اس کی مقدار کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے ، مومنین کو اس دوران سخت مشکل کا سامنا ہو گا ، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ، وہ لوگوں کی امامت کریں گے ، پھر جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے ، اور سمع اللہ لمن حمدہ کہیں گے ، تو اللہ تعالیٰ دجال کو مار دے گا ، اور مسلمان غلبہ پا لیں گے ۔ “ میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ سیدنا ابوالقاسم صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” بات حق ہے اور یہ بات قریب ہے ، جو چیز بھی آنے والی ہو وہ قریب ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن منذر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔