مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُكُمْ مِنْهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ . أَلَا وَإِنَّهُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ كَأَنَّهُ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ الْخُزَاعِيُّ ، أَلَا وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، أَلَا وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا . يَا عِبَادَ اللَّهِ ، اثْبُتُوا " . ثَلَاثًا . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " كَالسَّحَابِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا مُكْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ يَوْمًا ، يَوْمٌ مِنْهَا كَسَنَةٍ ، وَيَوْمٌ مِنْهَا كَشَهْرٍ ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ ، وَسَائِرُهَا كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ يَوْمَئِذٍ صَلَاةُ يَوْمٍ أَوْ نُقَدِّرُ لَهُ ؟ قَالَ : " بَلِ اقْدُرُوا لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤جبیر بن نفیر اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا ، تو میں تمہارے حوالے سے اس کے لئے رکاوٹ بن جاؤں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوا ، تو ہر شخص اپنی حفاظت خود کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ میری جگہ ہر مسلمان کا نگہبان ہو گا ، خبردار ! اس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، وہ عبدالعزیٰ بن قطن خزاعی کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا ، خبردار ! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا ، تم میں سے جو شخص اس سے ملے وہ اس کے سامنے سورت فاتحہ پڑھ لے ، خبردار ! میں نے اسے دیکھا ہے کہ وہ شام اور عراق کے درمیان موجود ایک جگہ سے نکلے گا اور دائیں اور بائیں طرف جائے گا : اے اللہ کے بندو ! تم ثابت قدم رہنا ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! زمین میں اس کے چلنے کی رفتار کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس طرح وہ بادل ہوتا ہے ، جسے ہوا لے کے چلتی ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چالیس دن رہے گا ، جن میں سے ایک دن ایک سال کی مانند ہو گا ، ان میں سے ایک دن ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کی مانند ہو گا اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس موقع پر نماز کو کیسے ادا کریں گے ؟ ایک دن کی نماز ادا کریں گے یا اندازہ لگا لیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم اس کے لئے اندازہ لگا لو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔