کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12501
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَهْبَطَ اللَّهُ - تَعَالَى - إِلَى الْأَرْضِ مُنْذُ خَلَقَ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةً أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَقَدْ قُلْتُ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ قَبْلِي ، إِنَّهُ آدَمُ جَعْدٌ ، مَمْسُوحُ عَيْنِ الْيَسَارِ ، عَلَى عَيْنِهِ ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكَمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَمَنْ قَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ ، فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، فَقَدِ افْتُتِنَ . يَلْبَثُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مِلَّتِهِ إِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدْلًا فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ " . فَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ : وَنَرَى أَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ السَّاعَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب سے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے ۔ اس وقت سے لے کر قیامت قائم ہونے تک اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف کوئی ایسا فتنہ نازل نہیں کیا ، جو دجال کے فتنے سے زیادہ بڑا ہو ، اور میں دجال کے بارے میں ایک ایسی بات بیان کرنے لگا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی ، وہ گندمی رنگ کا بکھرے بالوں والا شخص ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ خراب ہو گی ، اس کی آنکھوں پر موٹا سا ٹکڑا ہو گا ، وہ پیدائشی اندھے اور برص ( یعنی پھلبہری ) کے مریض کو ٹھیک کر دے گا ، اور یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو جو شخص یہ کہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس پر فتنہ واقع نہیں ہو گا ، اور جو شخص یہ کہے : تم میرے پروردگار ہو ، وہ شخص آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ، وہ تمہارے درمیان اس وقت تک رہے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ، جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، وہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین کے مطابق ہدایت یافتہ امام کے طور پر اور عدل کرنے والے حکمران کے طور پر نازل ہوں گے ، اور وہ دجال کو قتل کر دیں گے ۔ “ حسن بصری یہ کہا: کرتے تھے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت کے قریب ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 12502
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ : مَا كُنَّا نَسْمَعُ فَزْعَةً وَلَا رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ إِلَّا ظَنَنَّا أَنَّهُ الدَّجَّالُ ، لِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَنْهُ وَيُقَرِّبُهُ لَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم جب بھی کوئی پریشانی کی خبر یا معاملہ مدینہ منورہ میں سنتے تھے ، تو یہ سمجھتے تھے کہ یہ دجال ہو گا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں اتنا کچھ بتایا تھا ، اور اس کے قریب ہونے کا ذکر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3385)»
حدیث نمبر: 12503
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَبَيْنَ إِنْسَانٍ مُنَازَعَةٌ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ . فَلَمَّا سَكَنَ عَنْهُ الْغَضَبُ قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : أُخْبِرُكَ ، فِتْنَةُ الدَّجَّالِ ، وَفِتْنَةُ أَمِيرٍ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَشُحٌّ شَحِيحٌ يُلْقَى عَلَى النَّاسِ ، إِذَا أَصَابَ الرَّجُلُ الْمَالَ لَا يُبَالِي مِمَّا أَصَابَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! اگر یہ شخص جھوٹا ہوا تو تُو اسے اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک یہ تین میں سے کسی ایک چیز کو نہ پا لے ، جب ان کا غصہ کم ہوا تو میں نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ نے اس شخص کے خلاف کیا دعا دی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں دجال کے فتنے کے بارے میں بتاتا ہوں اور ایک ایسے حکمران کے فتنے کے بارے میں بتاتا ہوں جو دجال کے فتنے کی مانند ہو گا ، اور بخیل شخص کے بخل کے بارے میں ( بتاتا ہوں ) جو بخل لوگوں پر ڈال دیا جائے گا ، جب آدمی کوئی مال حاصل کرے گا ، تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے وہ مال کہاں سے حاصل کیا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید اسلمی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6052)»
حدیث نمبر: 12504
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكَمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَنَا رَبُّكُمْ . فَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، فَقَدْ فُتِنَ ، وَمَنْ قَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ ، فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک دجال نکلے گا ، اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، جس پر موٹی سی تہہ ہو گی اور وہ پیدائشی اندھے اور پھلبہری کے مریض کو ٹھیک کر دے گا ، اور مردوں کو زندہ کرے گا ، اور وہ لوگوں سے یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو جو شخص یہ کہے گا ، تو میرا پروردگار ہے وہ آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ، اور جو شخص یہ کہے گا : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، یہاں تک کہ وہ شخص مرتے دم تک اسی چیز پر برقرار رہے گا ، تو اسے دجال کی آزمائش سے بچا لیا جائے گا ، اور اس پر فتنہ لاحق نہیں ہو گا ، دجال زمین میں اتنا عرصہ رہے گا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہو گا ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مغرب کی طرف سے نکلیں گے ، اور وہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، وہ دجال کو قتل کر دیں گے ، اور پھر ( اس کے بعد ) قیامت آ جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3398) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6918) اخرجه احمد فى المسند (13/5)»
حدیث نمبر: 12505
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ذُو حَدَقَةٍ جَاحِظَةٍ وَلَا تَخْفَى [كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي جَنْبِ جِدَارٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى ] كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، وَمَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَجَنَّتُهُ عَيْنٌ ذَاتُ دُخَانٍ ، وَنَارُهُ رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلَانِ يُنْذِرَانِ أَهْلَ الْقُرَى ، كُلَّمَا خَرَجَا مِنْ قَرْيَةٍ دَخَلَ أَوَائِلُهُمْ ، فَيُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ فَيَذْبَحُهُ ثُمَّ يَضْرِبُهُ بِعَصَاهُ ثُمَّ يَقُولُ : قُمْ ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ . فَيَقُولُ الرَّجُلُ الْمَذْبُوحُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَيَعُودُ أَيْضًا فَيَذْبَحُهُ ، ثُمَّ يَضْرِبُهُ بِعَصَاهُ فَيَقُولُ لَهُ : قُمْ ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ . فَيَقُولُ الْمَذْبُوحُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا زَادَنِي هَذَا فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً . وَيَعُودُ فَيَذْبَحُهُ الثَّالِثَةَ فَيَضْرِبُهُ [ بِعَصَاهُ ] فَيَقُولُ : قُمْ ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ : كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ . فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا زَادَنِي هَذَا فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً . ثُمَّ يَعُودُ فَيَذْبَحُهُ الرَّابِعَةَ ، فَيَضْرِبُ اللَّهُ عَلَى حَلْقِهِ بِصَفِيحَةِ نُحَاسٍ فَلَا يَسْتَطِيعُ ذَبْحَهُ " ، [ فَوَااللَّهِ مَا رَأَيْتُ النُّحَاسَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ : "فَيَغْرِسُ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ وَيَزْرَعُونَ "] قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كُنَّا نَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لِمَا نَعْلَمُ مِنْ قُوَّتِهِ وَجَلَدِهِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَعَطِيَّةُ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر ایک نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، وہ کانا ہو گا ، جس کی ایک آنکھ واضح طور پر ابھری ہوئی ہو گی اور وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی ، اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گی ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کی جنت دھوئیں والا ایک چشمہ ہو گی اور اس کی جہنم ایک سرسبز باغ ہو گی ، اس سے پہلے دو افراد ہر بستی والوں کو ڈراتے رہیں گے ، جب بھی وہ دونوں افراد کسی بستی سے نکلیں گے ، تو دجال کے ماننے والوں میں سے ابتدائی لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے ، اور وہ ایک شخص پر مسلط ہو گا ، وہ اس کے علاوہ کسی اور پر مسلط نہیں ہو گا ، وہ اسے ذبح کرے گا ، پھر اسے عصا کے ذریعے مارے گا ، اور کہے گا : تم اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، تو جس شخص کو ذبح کیا گیا ہو گا ، وہ یہ کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، پھر وہ دوبارہ اسے ذبح کرے گا ، پھر اسے عصا مارے گا ، اور اس سے کہے گا : تم اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، اور ذبح ہونے والا شخص کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، اور ( پھر وہ دجال کو مخاطب کر کے کہے گا ) تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ، پھر دجال تیسری مرتبہ اس کو ذبح کرے گا ، پھر وہ اسے عصا مارے گا ، اور کہے گا اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے دریافت کرے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، تو وہ ( شخص ) کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، اور تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ، پھر وہ چوتھی مرتبہ اسے ذبح کرنا چاہے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس دوسرے شخص کی گردن پر پیتل کا ٹکڑا رکھ دے گا ، تو دجال اسے ذبح نہیں کر سکے گا ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے لفظ ” نحاس “ ( یعنی تانبا ) صرف اسی دن سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے بعد لوگ کھیتی باڑی کریں گے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ وہ شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے کیونکہ ہمیں ان کی قوت اور مضبوطی کا پتہ تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3379) اخرجه ابو يعلى فى المسند (725) اخرجه احمد فى المسند (1526)»
حدیث نمبر: 12506
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ ، وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی نے اپنی امت کے سامنے دجال کا حلیہ بیان کیا ہے ، اور میں اس کا حلیہ اس طریقے سے بیان کروں گا کہ مجھ سے پہلے اس کا حلیہ اس طرح کسی ( نبی ) نے بیان نہیں کیا ہو گا وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12507
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ : كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ الْأُمِّيُّ وَالْكَاتِبُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ لے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12507
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (38/5)»
حدیث نمبر: 12508
وَعَنْ أُبَيٍّ - يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ : " إِحْدَى عَيْنَيْهِ كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اس کی ایک آنکھ یوں ہو گی جیسے اس میں سبز شیشہ ہو ، اور تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (123/5)»
حدیث نمبر: 12509
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " أَعْوَرُ هِجَانُ أَزْهَرُ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ ، فَأَمَّا هَلَكُ الْهُلَّكِ فَإِنَّ رَبَّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” وہ کانا ہو گا اس کا رنگ سفید ہو گا ، اس کا سر بڑی ہڈی والا ہو گا ، اور وہ عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا ، پھر جس نے ہلاکت کا شکار ہونا ہو گا ، وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ( لیکن تم یہ بات یاد رکھنا کہ ) کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12509
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11713 و 11712 و 11711) اخرجه احمد فى المسند (2148 و 2854)»
حدیث نمبر: 12510
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ الدَّجَّالَ هِجَانًا ضَخْمًا فَيْلَمَانِيًّا ، كَأَنَّ شَعْرَهُ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ ، أَعْوَرُ كَأَنَّ عَيْنَيْهِ كَوْكَبُ الصُّبْحِ ، أَشْبَهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ " ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے دجال کو دیکھا کہ وہ موٹا تازہ بڑے جثے کا مالک شخص ہے ۔ اس کے بال یوں ہیں جیسے درخت کی شاخیں ہوں ، اور وہ کانا ہو گا ، اس کی دونوں آنکھیں صبح کے ستارے کی مانند ہوں گی ، وہ خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔ “ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12510
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1669) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11843)»
حدیث نمبر: 12511
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَمَا نَدْرِي أَنَّهُ الْوَدَاعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ . لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّبِيُّونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ - مِنْ بَعْدِهِ ، أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَّنَ عَلَيْكُمْ ، أَنَّ رَبَّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم حجۃ الوداع کے موقع پر بات چیت کر رہے تھے ، ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رخصتی والا حج ہے ، جب حجۃ الوداع کا موقع آیا تو آپ نے خطبہ دیتے ہوئے دجال کا ذکر کیا اور اس کے ذکر کو طول دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ہے ۔ اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، سیدنا نوح علیہ السلام نے اور ان کے بعد آنے والے انبیاء نے بھی ایسا کیا ہے خبردار اس کا معاملہ تم لوگوں سے جتنا بھی مخفی رہے گا ، اور یہ بات بھی تم سے مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (135/2)»
حدیث نمبر: 12512
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ كُفِيتُمُوهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلُ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ مَدِينَةَ فِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً : " حَتَّى يَأْتِيَ مَدِينَةَ فِلَسْطِينَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيَقْتُلُهُ ، وَيَمْكُثُ عِيسَى فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے دجال کا خیال آیا تو میں رونے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اس وقت نکلا ، جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو تم سب کے مقابلے میں ، میں اس کے لئے کفایت کر جاؤں گا ، اور اگر وہ میرے بعد نکلا ، تو تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال اصبہان کے یہودیوں میں سے نکلے گا ، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ آئے گا ، اور اس کے کنارے پر پڑاؤ کرے گا ، اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک دروازے پر دو فرشتے موجود ہوں گے ، پھر یہاں کے رہنے والے برے لوگ نکل کر دجال کے پاس چلے جائیں گے ، پھر وہ شام میں فلسطین کے ایک شہر باب لد میں آئے گا ( یہاں ابوداؤد نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کے ہیں ) ، یہاں تک کہ وہ فلسطین کے شہر باب لد میں آئے گا ، تو وہاں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا ، پھر وہ اسے قتل کر دیں گے ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام چالیس سال تک عادل حکمران اور انصاف کرنے والے حکمران کے طور پر رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حضرمی بن لاحق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12512
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (75/6)»
حدیث نمبر: 12513
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ " مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ " مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَرِوَايَتُهُ [عَنْهُ ] جَيِّدَةٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال اصبہان کے یہودیوں میں سے نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ۔ “
یہ روایت محمد بن مصعب نے اوزاعی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اوزاعی سے ان کی نقل کردہ روایت عمدہ ہوتی ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے انہیں ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3639) اخرجه احمد فى المسند (224/3)»
حدیث نمبر: 12514
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ قَوْمًا دَخَلُوا عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالُوا لَهُ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُشْتَبَهْ عَلَيْكَ .[ فَقَالَ أَجْلِسُونِي ] فَأَخَذَ بَعْضُ الْقَوْمِ بِيَدِهِ ، فَجَلَسَ فَقَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَأَنَا أُحَذِّرُكُمُ الدَّجَّالَ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ الْكَاتِبُ وَغَيْرُ الْكَاتِبِ ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُنَيْسُ بْنُ عَامِرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت بیمار تھے ، لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جس میں آپ کو کوئی اشتباہ نہ ہو ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے بٹھا دو ! حاضرین میں سے کسی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بٹھا دیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ) ” ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں بھی تمہیں دجال سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں وہ کانا ہو گا ، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ سکے گا ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ۔ اس کی آگ ( درحقیقت ) جنت ہو گی اور اس کی جنت ( درحقیقت ) جہنم ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خنیس بن عامر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال ، اصبہان کی طرف سے نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن محمویہ جوہری کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3388) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (197)»
حدیث نمبر: 12514
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ أَصْبَهَانَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْجَوْهَرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دجال اصفہان ایران کی طرف سے نکلے گا“۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الاوسط میں محمد بن محموِیہ جوہری کی سند سے روایت کیا ہے ، اور حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں اسے نہیں پہچان سکا/یہ میرے لیے غیر معروف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12514
حدیث نمبر: 12515
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَادَى : " الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ " . فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الظُّهْرِ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ . قَالَتْ فَاطِمَةُ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّ هَذِهِ طِيبَةُ ؟ " ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ " ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أُرِيحَ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " بَلْ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ بَلْ هُوَ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ ، يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا يُقَالُ لَهَا رُسْتَقَابَاذُ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ ، مَعَهُ نَهْرَانِ نَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَنَهْرٌ مِنْ نَارٍ ، فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ : ادْخُلِ الْمَاءَ فَلَا يَدْخُلْ فَإِنَّهُ نَارٌ ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ : ادْخُلِ النَّارَ فَلْيَدْخُلْهَا فَإِنَّهَا مَاءٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ فِي حَدِيثِهَا الطَّوِيلِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ نے اعلان کروایا ، لوگ اکٹھے ہو جائیں تو میں انصار کی کچھ خواتین کے ہمراہ نکلی ، یہاں تک کہ ہم مسجد میں آ گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خبردار میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ یہ ( شہر ) طیبہ ہے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : خبردار ! میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ ( دجال ) شام کے سمندر میں ہے پھر آپ پر گھڑی بھر کے لئے مخصوص کیفیت طاری ہوئی ، جب آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے ، اور جب وہ نکلے گا تو وہ ایک ایسے شہر میں سے نکلے گا جس کا نام اصبہان ہو گا ۔ وہ یہ وہاں کی ایک بستی میں سے نکلے گا جس کا نام رستقا باذ ہو گا ، جب وہ نکلے گا تو اس کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ، دجال کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، ایک پانی کی نہر ہو گی اور ایک آگ کی نہر ہو گی ، تم میں سے جو شخص اس کا زمانہ پائے اور اس سے یہ کہا: جائے کہ تم پانی میں داخل ہو جاؤ تو وہ داخل نہ ہو کیونکہ وہ درحقیقت آگ ہو گی اور جب اس سے یہ کہا: جاؤ تم آگ میں داخل ہو جائے ، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ پانی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو ایک طویل حدیث ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12515
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (388/24)»
حدیث نمبر: 12516
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَقِيقِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى الثَّنِيَّةِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا ثَنِيَّةُ الْحَوْضِ الَّتِي بِالْعَقِيقِ أَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ عَدُوِّ اللَّهِ الْمَسِيحِ ، إِنَّهُ يُقْبِلُ حَتَّى يَنْزِلَ مِنْ كَذَا حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيْهِ غَوْغَاءُ النَّاسِ ، مَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ أَوْ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ ، مَعَهُ صُورَتَانِ صُورَةُ الْجَنَّةِ وَصُورَةُ النَّارِ [خَضْرَاءُ ] ، مَعَهُ شَيَاطِينُ يُشَبَّهُونَ بِالْأَمْوَاتِ يَقُولُونَ لِلْحَيِّ : تَعْرِفُنِي ؟ أَنَا أَخُوكَ أَوْ أَبُوكَ أَوْ ذُو قَرَابَةٍ مِنْهُ ، أَلَسْتَ قَدِمْتَ ؟ هَذَا رَبُّنَا فَاتَّبِعْهُ . فَيَقْضِ اللَّهُ مَا يَشَاءُ مِنْهُ ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُسْكِتُهُ وَيُبَكِّتُهُ وَيَقُولُ [ هَذَا الْكَذَّابُ ] : أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ وَيَقُولُ بَاطِلًا وَلَيْسَ رَبُّكُمْ بِأَعْوَرَ . فَيَقُولُ : هَلْ أَنْتَ مُتَّبِعِي ؟ فَيَأْبَى ، فَيَشُقُّهُ شَقَّتَيْنِ ، وَيُعْطَى ذَلِكَ ، وَيَقُولُ : أُعِيدُهُ لَكُمْ ؟ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّ مَا كَانَ تَكْذِيبًا وَأَشَدَّهُ شَتْمًا ، فَيَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مَا رَأَيْتُمْ بَلَاءٌ ابْتُلِيتُمْ بِهِ وَفِتْنَةٌ افْتُتِنْتُمْ بِهَا ، إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُعِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى ، أَلَا هُوَ كَذَّابٌ . فَيَأْمُرُ بِهِ إِلَى هَذِهِ النَّارِ وَهِيَ صُورَةُ الْجَنَّةِ فَيَخْرُجُ قِبَلَ الشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیق سے آ رہا تھا ، یہاں تک کہ جب ہم اس گھاٹی کے پاس پہنچے جسے ثنیہ حوض کہتے ہیں : جو عقیق کے مقام پر ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : گویا کہ میں اس وقت بھی اللہ کے دشمن دجال کے آغاز والی جگہ کو دیکھ رہا ہوں ، وہ آئے گا ، یہاں تک کہ فلاں جگہ پر پڑاؤ کرے گا ، اور برے لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے ، اس وقت مدینہ منورہ کے ہر راستے پر ایک یا دو فرشتے موجود ہوں گے جو اس کی حفاظت کر رہے ہوں ، دجال کے ساتھ دو ظاہری شکل و صورت والی چیزیں ہوں گی ، ایک کی ظاہری شکل جنت کی ہو گی ، ایک کی ظاہری شکل جہنم کی ہو گی ، دجال کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو مرحومین کی شکل و صورت اختیار کر لیں گے ، اور وہ زندہ شخص سے کہیں گے تم مجھے پہچانتے ہو ، میں تمہارا بھائی ہوں یا تمہارا باپ ہوں یا تمہارا رشتے دار ہوں ، کیا میرا انتقال نہیں ہو چکا ہے ، یہ ہمارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کر لو ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ کر لے گا ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے ایک شخص کو بھیجے گا ، وہ دجال کو خاموش کروائے گا ، اور اس پر تنقید کرتے ہوئے کہے گا : یہ کذاب ہے ، لوگو یہ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کیونکہ یہ کذاب ہے ، اور یہ جھوٹ بولتا ہے ، تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال کہے گا : کیا تم میری پیروی کرو گے ؟ وہ شخص انکار کر دے گا ، تو دجال اسے دو حصوں میں چیر دے گا ، پھر دجال کہے گا : میں اسے تمہارے سامنے دوبارہ زندہ کرتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو وہ دجال کی اس سے زیادہ تکذیب کرنے والا ہو گا ، اور اس سے زیادہ اس پر تنقید کرنے والا ہو گا ، پھر وہ شخص کہے گا : اے لوگو تم نے جو آزمائش دیکھی ہے تمہیں اس حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے ، یہ ایک فتنہ ہے جس میں تمہیں مبتلا کیا گیا ہے ، اگر یہ سچا ہے ، تو اسے کہو کہ یہ دوبارہ میرے ساتھ ایسا کر لے ، خبردار ! یہ کذاب ہے ، پھر دجال اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم دے گا ، جو درحقیقت جنت ہو گی ، پھر دجال نکل کر شام کی طرف چلا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12516
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6305)»
حدیث نمبر: 12517
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى ، بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ ، فَجَنَّتُهُ نَارٌ وَنَارُهُ جَنَّةٌ ، مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُشَبَّهَانِ بِنَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ ، وَذَلِكَ فِتْنَةُ النَّاسِ ، يَقُولُ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أُحْيِي وَأُمِيتُ ؟ فَيَقُولُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ : كَذَبْتَ ، فَمَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ ، فَيَقُولُ لَهُ : صَدَقْتَ وَيَسْمَعُهُ النَّاسُ ، فَيَحْسَبُونَ أَنَّهُ صَدَّقَ الدَّجَّالَ ، وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ، ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا ، ثُمَّ يَقُولُ : هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، اس کی دائیں آنکھ پر بڑا سا ٹکڑا ہو گا ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی جن میں سے ایک جنت ہو گی اور دوسری آگ ہو گی ، اس کی جنت درحقیقت آگ ہو گی اور اس کی آگ درحقیقت جنت ہو گی ، اس کے ساتھ فرشتوں میں سے دو فرشتے ہوں گے جو دو انبیاء کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں گے ، ان میں سے ایک اس کے دائیں طرف ہو گا ، اور دوسرا اس کے بائیں طرف ہو گا ، اور یہ چیز لوگوں کے لئے آزمائش کی وجہ ہو گی ، وہ کہے گا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، میں زندگی دیتا ہوں اور میں موت دیتا ہوں ، تو دونوں فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، لوگوں میں سے کوئی بھی یہ بات نہیں سن سکے گا ، صرف دوسرا فرشتہ یہ بات سن سکے گا ، اور وہ ( یعنی دوسرا فرشتہ ) یہ کہے گا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، لیکن دوسرے فرشتے کی بات لوگ سن لیں گے ، اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے ، تو یہ ایک آزمائش ہو گی ، پھر وہ چلتا رہے گا ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا ، اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی تو وہ کہے گا : یہ ان صاحب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بستی ہے ، پھر وہ چلے گا ، اور شام آ جائے گا ، وہاں عقبہ افیق کے مقام پر اللہ تعالیٰ اسے ہلاکت کا شکار کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6445) اخرجه احمد فى المسند (221/5)»
حدیث نمبر: 12518
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ مُعْتِمٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الدَّجَّالُ لَيْسَ بِهِ خَفَاءٌ ، إِنَّهُ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيَدْعُو لِي فَيُتَّبَعُ ، وَيَنْصَبُ لِلنَّاسِ فَيُقَاتِلُهُمْ وَيَظْهَرُ عَلَيْهِمْ ، فَلَا يَزَالُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَقْدَمَ الْكُوفَةَ ، فَيُظْهِرُ دِينَ اللَّهِ وَيَعْمَلُ بِهِ فَيُتَّبَعُ وَيُحَبُّ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ : إِنِّي نَبِيٌّ ، فَيَفْزَعُ مِنْ ذَلِكَ كُلُّ ذِي لُبٍّ وَيُفَارِقُهُ ، فَيَمْكُثُ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَقُولَ : أَنَا اللَّهُ ، فَتُغْشَى عَيْنُهُ ، وَتُقْطَعُ أُذُنُهُ ، وَيُكْتَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، فَلَا يَخْفَى عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، فَيُفَارِقُهُ كُلُّ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَيَكُونُ أَصْحَابُهُ وَجُنُودُهُ الْمَجُوسَ وَالْيَهُودَ وَالنَّصَارَى وَهَذِهِ الْأَعَاجِمُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، ثُمَّ يَدْعُو بِرَجُلٍ فِيمَا يَرَوْنَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُقْتَلُ ، ثُمَّ يَقْطَعُ أَعْضَاءَهُ كُلَّ عُضْوٍ عَلَى حِدَةٍ ، فَيُفَرِّقُ بَيْنَهَا حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ ،ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهَا ، ثُمَّ يَضْرِبُ بِعَصَاهُ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ ، فَيَقُولُ : أَنَا اللَّهُ الَّذِي أُحْيِي وَأُمِيتُ ، وَذَلِكَ كُلُّهُ سِحْرٌ يَسْحَرُ بِهِ أَعْيُنَ النَّاسِ لَيْسَ يَعْمَلُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن معتم رضی اللہ عنہ میرے ہاں ٹھہرے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے ۔ وہ مشرق کی طرف سے آئے گا اور دعوت دے گا ، تو اس کی پیروی کی جائے گی ، وہ لوگوں کے لئے جھنڈا نصب کرے گا ، پھر لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا ، اور وہ ان پر غالب آ جائے گا ، وہ اسی طرح کرتا رہے گا ، یہاں تک کہ کوفہ آ جائے گا ، پھر وہ اللہ کے دین کو ( یعنی خود کو اس کا پیروکار ) ظاہر کرے گا ، اور اس پر عمل کرے گا ، تو اس کی پیروی کی جائے گی اور اس بارے میں اس کے پیچھے چلا جائے گا ، پھر اس کے بعد وہ یہ کہے گا : میں نبی ہوں ۔ اس وقت ہر سمجھ دار شخص خوف زدہ ہو جائے گا ، اور اس سے الگ ہو جائے گا ، اس کے بعد وہ اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ پھر وہ یہ کہے گا : میں اللہ تعالیٰ ہوں ، پھر اس کی ایک آنکھ ضائع ہو جائے گی اور اس کا کان کٹ جائے گا ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا جائے گا ، اور یہ بات کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں رہے گی ، مخلوق میں سے ہر وہ شخص اس سے جدا ہو جائے گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے جتنا ایمان موجود ہو گا ، دجال کے ساتھی اور اس کے لشکر کے افراد مجوسی یہودی اور عیسائی ہوں گے ، اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے عجمی ہوں گے ، پھر دجال ایک شخص کو بلائے گا ، لوگ یہ دیکھ رہے ہوں گے اس شخص کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ، پھر اس کے اعضاء کو کاٹ دیا جائے گا ، ان میں سے ہر ایک عضو کو الگ سے کاٹا جائے گا ، اس کے اعضاء لوگوں کی نظر میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ، پھر دجال انہیں اکٹھا کرے گا اور ان پر عصا مارے گا ، تو وہ شخص کھڑا ہو جائے گا ، تو دجال کہنے گا : میں وہ اللہ ہوں جو زندگی دیتا ہے اور میں وہ اللہ ہوں اور میں موت دیتا ہوں ، حالانکہ یہ سب کچھ جادو کا نتیجہ ہو گا ، جو لوگوں کی نظروں کو باندھ دے گا ، اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12518
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3398) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6798) اخرجه أحمد فى المسند (16/5)»
حدیث نمبر: 12519
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَذَكَرَ حَدِيثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ حَتَّى قَالَ : فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ . قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ قَالَ : فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَنْشُدُكُمُ اللَّهُ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ " . قَالَ : فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ[ ثُمَّ سَكَتُوا ] . ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَإِنَّهُمْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَخْتَبِرُ بِهَا عِبَادَهُ ، فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُوهُ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا ، آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبَى تَحْيَا - لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ - أَوْ قَالَ : فَإِنَّهُ مَتَى مَا يَخْرُجُ - فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ [ وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : بِسَيِّءٍ مِنْ عَمَلِهِ ] سَلَفَ ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ - عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يُحْصَرُ الْمُؤْمِنُونَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى أَنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ - أَوْ قَالَ : أَصْلَ الْحَائِطِ - وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْيَبُ : أَوْ أَصْلَ الشَّجَرَةِ - لَيُنَادِي - أَوْ قَالَ : يَقُولُ : يَا مُؤْمِنُ - أَوْ قَالَ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ - أَوْ قَالَ : كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ " . قَالَ : " وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْ هَذَا ذِكْرًا وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا " . قَالَ : " ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " . قَالَ : ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " فَمَنِ اعْتَصَمَ بِاللَّهِ فَقَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ حَيٌّ لَا يَمُوتُ فَلَا عَذَابَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي فَقَدْ فُتِنَ " ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثَعْلَبَةَ بْنِ عُبَادَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ثعلبہ بن عباد عبدی جن کا تعلق اہل بصرہ سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھا ۔ انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی ، مصنف کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے سورج گرہن کے بارے میں حدیث نقل کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : ” پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کے دوران سورج روشن ہو گیا ، یہاں زہیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے حکم کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہو ، تو تم مجھے اس کے بارے میں بتاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ہے ، اپنی امت کی خیرخواہی کی ہے ، اور اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کیا ہے ، پھر وہ لوگ خاموش ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد : کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگنا یا چاند گرہن لگنا یا ستاروں کا ٹوٹنا زمین میں موجود بڑے لوگوں کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے ، ایسا لوگ غلط سوچتے ہیں ، یہ چیزیں اللہ کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ کرتا ہے ، اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے ، اللہ کی قسم ! جب میں یہاں کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا تو میں نے وہ چیزیں دیکھیں جن کا تم اپنے دنیاوی معاملات کے حوالے سے اور اپنی آخرت میں سامنا کرو گے ، اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک نبوت کے تیس جھوٹے دعوے دار نہیں نکلیں گے ، جن میں سے آخر میں کانا دجال ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ ضائع ہو چکی ہو گی ، وہ ابوتحیا کی آنکھ کی مانند ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کے بارے میں یہ بات کہی جو انصار سے تعلق رکھتا تھا ، اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ نکلے گا ، تو وہ یہ کہے گا : وہ اللہ ہے ، جو شخص اس پر ایمان لائے گا اور اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا ، تو اس شخص نے اس سے پہلے جو بھی نیک عمل کیا ہو گا ، وہ اسے فائدہ نہیں دے گا ، اور جو شخص اس کو جھٹلائے گا اس کی تکذیب کرے گا ، تو اس شخص کے کسی عمل کے حوالے سے اسے سزا نہیں دی جائے گی ، جو عمل اس نے پہلے کیا تھا ( یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) وہ عنقریب ظاہر ہو گا ، پوری روے زمین پر غالب آ جائے گا ، صرف حرم اور بیت المقدس پر غالب نہیں آئے گا ، اس وقت اہل ایمان بیت المقدس میں قلعہ بند ہو جائیں گے ، پھر وہاں شدید زلزلہ آئے گا اور پھر اللہ تعالیٰ دجال کو ہلاکت کا شکار کرے گا ، یہاں تک کہ کسی دیوار کی بنیاد یا کسی درخت کی جڑ پکار کر یہ کہے گی : اے مومن ، یا اے مسلمان ! یہ یہودی ہے یا یہ کافر ہے ، تم آؤ اور اسے قتل کر دو ( یہ تمام شک راویوں کو ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک تم لوگ ایسے امور نہیں دیکھ لو گے ، جن کے بارے میں تم پریشانی کا شکار ہو گے ، اور ایک دوسرے سے دریافت کرو گے کہ کیا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی چیز کے بارے میں تمہارے سامنے ذکر کیا ہے ؟ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل نہیں جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اس کے بعد قبض کرنا ہو گا ( یعنی دنیا ختم ہو جائے گی ) ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ میں سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھا ۔ انہوں نے اس خطبہ میں یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے کوئی ایک کلمہ اپنی جگہ سے نہ آگے کیا نہ پیچھے کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اللہ ( کے دین ) کو مضبوطی سے تھام لے گا ، اور یہ کہے گا : میرا پروردگار تو اللہ تعالیٰ ہے ، جو زندہ ہے ، جسے موت نہیں آئے گی ، تو اس شخص کو کوئی عذاب نہیں ہو گا ، اور جو شخص دجال سے یہ کہے گا : تو میرا پروردگار ہے ، تو وہ آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12519
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 12520
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا ، ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْنَا . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ : مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ ، وَمِصْرٌ بِالْحَيْرَةِ ، وَمِصْرٌ بِالشَّامِ ، فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ ، فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُونَ الْمِصْرَ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ ، فِرْقَةٌ تَبْقَى تَقُولُ : نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْأَعْرَابِ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ ، وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ ، فَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ . ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِمْ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ ، فِرْقَةٌ تَقُولُ : نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْأَعْرَابِ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقَ فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ ، فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ ، حَتَّى أَنَّ أَحَدَهُمْ لَيَخْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّحَرِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَتَاكُمُ الْغَوْثُ ، ثَلَاثًا ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ . وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ : يَا رَوْحَ اللَّهِ ، تَقَدَّمْ فَصَلِّ . فَيَقُولُ : هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ . فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَخَذَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - حَرْبَتَهُ فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ ، فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرُّصَاصُ ، فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتَيْهِ فَيَقْتُلُهُ ، وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ يَوْمَئِذٍ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا ، حَتَّى أَنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ : يَا مُؤْمِنُ ، هَذَا كَافِرٌ ، وَيَقُولُ الْحَجَرُ : يَا مُؤْمِنُ ، هَذَا كَافِرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونضرہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ کے دن آئے تاکہ ان کے سامنے اپنا قرآن مجید پیش کریں اور ان کے قرآن مجید کے ساتھ ملا لیں ، جب جمعہ کا وقت ہوا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا ، ہم نے غسل کیا ، پھر وہ ہمارے پاس خوشبو لے کر آئے ، ہم نے خوشبو لگائی ، پھر ہم مسجد میں آئے ، پھر ہم بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ، ایک شہر دو سمندروں کے ملنے کی جگہ کے پاس ہو گا ، ایک شہر حیرہ میں ہو گا ، اور ایک شہر شام میں ہو گا ، لوگ تین مرتبہ پریشانی کا شکار ہوں گے ، دجال لوگوں کے درمیان نکلے گا ، مشرق کی طرف سے اسے پسپا کر دیا جائے گا ، تو وہ لوگ جو سب سے پہلے اسے مسترد کریں گے ، وہ اس شہر کے لوگ ہوں گے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے ، وہاں رہنے والے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ یہ کہے گا : ہم اس کے پاس جا کر اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کیا ، ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ جا کے مل جائے گا ، اور ایک گروہ اس کے ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا ، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ، اس کے زیادہ تر پیروکار یہودی اور خواتین ہوں گے ، پھر وہ والے شہر میں آئے گا ، وہاں کے رہنے والے بھی تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ کہے گا : ہم اس کے پاس جا کے اس کا جائزہ لیتے ہیں ، یہ کیا ہے ، ایک گروہ دیہاتیوں کے پاس چلا جائے گا ، اور ایک گروہ اس کے ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا ، جو شام کے مغربی حصے میں موجود ہو گا ، مسلمان اس وقت افیق نامی گھاٹی کے پاس اکٹھے ہو جائیں گے ، پھر وہ اپنے جانوروں کو بھیجیں گے ، تو ان کے جانوروں کو نقصان پہنچا دیا جائے گا ( یا وہ جانور مر جائیں گے ) یہ بات ان پر بہت گراں گزرے گی اور مسلمانوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے گی اور سخت مشقت لاحق ہو گی ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک شخص اپنی کمان کے تانت کو چیر کر اسے کھائے گا ، ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے لوگو ! مدد تمہارے پاس آ گئی ہے ۔ وہ تین مرتبہ یہ کہے گا ، تو لوگ کہیں گے یہ تو کسی سیر شخص کی آواز لگتی ہے ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے ، یہ فجر کی نماز کے قریب کی بات ہو گی ، مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا : اے روح اللہ ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں ، تو وہ فرمائیں گے : اس امت کے لوگ ایک دوسرے کے امیر ہیں ، تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کے نماز پڑھائے گا ، جب وہ نماز ختم کر لے گا ، تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اپنا نیزہ پکڑیں گے ، اور پھر دجال کی طرف چل پڑیں گے ، جب دجال انہیں دیکھے گا تو وہ یوں پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اپنا نیزہ اس کے سینے پر رکھ کر اسے قتل کر دیں گے ، اور دجال کے ساتھی پسپا ہو جائیں گے ، اس وقت جو بھی چیز ان ( کفار ) میں سے جس بھی شخص کو چھپائے گی ، یہاں تک کہ اگر کوئی درخت ہو گا ، تو وہ یہ کہے گا : اے مومن ! یہ کافر موجود ہے ، پتھر ہو گا ، تو وہ یہ کہے گا : یہ کافر موجود ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8392) اخرجه احمد فى المسند (216/4)»
حدیث نمبر: 12521
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ ، فَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، افْتُتِنَ ، وَمَنْ قَالَ : كَذَبْتَ ، رَبِّيَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، فَلَا يَضُرُّهُ " . أَوْ قَالَ : " فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال کے سر پر پیچھے کی طرف بالوں کی لٹیں ہوں گی جو شخص یہ کہے گا : تو میرا پروردگار ہے ، وہ آزمائش کا شکار ہو جائے گا ، اور جو شخص یہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، میں اسی پر توکل کرتا ہوں ، تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کو فتنہ لاحق نہیں ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12521
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (175/22) اخرجه احمد فى المسند (20/4)»
حدیث نمبر: 12522
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ قَدْ أَطَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ بَعْدَكُمُ الْكَذَّابَ الْمُضِلَّ ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَمَنْ قَالَ : لَسْتَ بِرَبِّنَا وَلَكِنَّ رَبَّنَا اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرْكٍ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : میں نے مدینہ منورہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ جس کے گرد لوگ چکر لگاتے تھے اور وہ یہ بیان کر رہا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” تمہارے بعد گمراہ کرنے والا کذاب ہو گا جس کے سر پر پیچھے کی طرف بالوں کی لٹیں ہوں گی اور وہ یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، جو شخص یہ کہے گا : تو ہمارا پروردگار نہیں ہے بلکہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، ہم نے اسی پر توکل کیا اور ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں ، اور ہم اس شخص سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، جو شرک کرے ، تو دجال کو اس پر غلبہ حاصل نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (372/5)»
حدیث نمبر: 12523
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ : أَتَيْنَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ ، فَشَدَدْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا ، فَقَالَ : " أُنْذِرُكُمُ الْمَسِيحَ ، وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - الْيُسْرَى ، يَسِيرُ مَعَهُ جِبَالُ الْخُبْزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ ، عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ ، لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ : الْكَعْبَةَ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَالطُّورَ ، وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : أَحْسَبُهُ قَالَ : " يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحَيِّيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جنادہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کے پاس آئے ، ہم ان کے پاس آئے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، آپ کوئی ایسی بات بیان نہ کیجئے گا ، جو آپ نے لوگوں سے سنی ہو ، ہم نے اس بارے میں ان سے زیادہ گزارش کی ، تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں دجال سے تمہیں ڈرا رہا ہوں ، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی ، اس کی علامت یہ ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، اور اس کی بادشاہی ہر چشمے تک پہنچ جائے گی ، تاہم وہ چار مساجد تک نہیں آ سکے گا ، خانہ کعبہ ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ اور مسجد طور ، بہرحال جو بھی ہو ، تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ۔ “ ابن عون کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے ایک شخص پر تسلط دیا جائے گا ، وہ اسے قتل کر دے گا ، پھر وہ اسے زندہ کرے گا ، اس شخص کے علاوہ کسی پر اس کو تسلط نہیں کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12523
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (364/5)»
حدیث نمبر: 12524
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ : ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ عَنِ الدَّجَّالِ . قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ - ثَلَاثًا - فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا أَنْذَرَهُ ، وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ ، وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ ، وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٍ مِنْ مَاءٍ ، وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يُنْبِتُ الشَّجَرَ ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا ، وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ كُلَّ مَنْهَلٍ ، لَا يَقْرَبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ : مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَا شُبِّهَ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
جنادہ بن ابوامیہ ازدی بیان کرتے ہیں : میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے پاس گئے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں ذکر کیا ہو ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( پھر فرمایا : ) ہر نبی نے اس سے ڈرایا ہے ، اور اے امت ! وہ تمہارے درمیان ظاہر ہو گا ، وہ بکھرے ہوئے بالوں والا گندمی رنگت کا مالک شخص ہو گا ، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ ہوں گے ، اور پانی کی نہر ہو گی ، وہ بارش نازل کروائے گا ، لیکن وہ پیداوار نہیں کر سکے گی ، اسے ایک شخص پر مسلط کیا جائے گا ، وہ اسے قتل کر دے گا ، اسے اس شخص کے علاوہ کسی اور شخص پر مسلط نہیں کیا جائے گا ، وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا لیکن وہ چار مسجدوں کے قریب نہیں آ سکے گا ، مسجد حرام ، مسجد نبوی ، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12524
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (435/5)»
حدیث نمبر: 12525
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ ، وَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يُسَيِّحُهَا فِي الْأَرْضِ ، الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ، ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ ، وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا ، فَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَنَا رَبُّكُمْ ، وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ [ ك ف ر ] مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ، يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ ، وَقَامَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا ، مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ ، وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنِ تَبَعَهُ ، وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ ، نَهْرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهْرٌ يَقُولُ النَّارُ ، فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ ، وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ " . قَالَ : " وَتُبْعَثُ مَعَهُ شَيَاطِينُ تُكَلِّمُ النَّاسَ ، وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ ، يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ ، فَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ ؟ " . قَالَ : " فَيَفِرُّ النَّاسُ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ فِي الشَّامِ فَيُحَاصِرُهُمْ ، فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا . ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى هَذَا الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ ؟ فَيَقُولُونَ : هَذَا رَجُلٌ جِنِيٌّ ، فَيَنْطَلِقُونَ . فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ : تَقَدَّمْ يَا رَوْحَ اللَّهِ . فَيَقُولُ : لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَيُصَلِّي بِكُمْ ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجَ إِلَيْهِ " . قَالَ : " فَحِينَ يَرَاهُ الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ، فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ ، حَتَّى أَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي : هَذَا يَهُودِيٌّ ، فَلَا يُتْرَكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا تَبِعَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَلِجَابِرٍ حَدِيثٌ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ فِي الْحَجِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال دین کے کمزور ہونے اور علم کے رخصت ہونے کے وقت نکلے گا ، اس کی چالیس راتیں ہوں گی ، وہ پوری زمین میں گھومے گا ، ان راتوں میں سے ایک دن ایک سال کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے ، اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس کے دونوں کانوں کے درمیان کی چوڑائی چالیس ذراع ہو گی ، وہ لوگوں سے کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، حالانکہ وہ کانا ہو گا ، اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر یعنی ک ف ر لکھا ہوا ہو گا ، جو ہجوں کی شکل میں ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا یا غیر پڑھا لکھا مومن پڑھ سکے گا ، وہ ہر پانی اور گھاٹ تک آئے گا ، صرف مدینہ منورہ اور مکہ نہیں آئے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں شہر اس کے لئے حرام قرار دیے ہیں ، ان شہروں کے دروازوں پر فرشتے کھڑے ہوئے ہیں ، دجال کے ساتھ روٹی کے پہاڑ ہوں گے اور لوگ اس وقت فاقہ کشی کا شکار ہوں گے ، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس کی پیروی کر رہے ہوں گے ، دجال کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، میں ان دونوں کے بارے میں دجال سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ، ایک نہر جس کے بارے میں وہ یہ کہے گا : یہ جنت ہے اور ایک نہر جس کے بارے میں وہ یہ کہے گا : یہ جہنم ہے ، تو جو شخص اس میں داخل ہو گا ، جسے وہ جنت کا نام دے گا ، تو وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جو شخص اس میں داخل ہو گا ، جسے اس نے جہنم کا نام دیا ہو گا ، تو وہ درحقیقت جنت ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے ساتھ شیاطین کو بھیجا جائے گا ، جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے ، اور ان کے ساتھ بڑا فتنہ ہو گا ، وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش نازل کرے گا ، جو لوگوں کو نظر آ رہا ہو گا ، پھر وہ لوگوں کو کہے گا : اے لوگو ! کیا یہ کام صرف رب ہی کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ نکل کر شام میں موجود جبل دخان کے پاس جائیں گے وہ ان کا محاصرہ کر لے گا ، ان کا محاصرہ شدید ہو جائے گا ، اور ان لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے گی ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہیں گے : اے لوگو ! تمہیں کس چیز نے اس بات سے روکا ہوا ہے کہ تم اس خبیث کذاب کی طرف نکل کے جاؤ تو وہ لوگ کہیں گے : یہ شخص جن ہے ، پھر وہ لوگ جائیں گے ، تو وہاں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے ، پھر نماز کھڑی ہو گی تو ان سے کہا: جائے گا : اے روح اللہ ! آپ آگے آئیں ، تو وہ فرمائیں گے : تمہارے امام کو آگے ہونا چاہیے ، وہ امام تمہیں نماز پڑھائے ، جب وہ صبح کی نماز ادا کر لیں گے تو نکل کر اس کی طرف جائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کذاب انہیں دیکھے گا تو وہ یوں پگھلنا شروع ہو گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام چلتے ہوئے اس کے پاس جائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ، یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی پکار کر یہ کہیں گے کہ یہ یہودی ( میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ) تو اس کے پیروکاروں میں سے ہر ایک کو وہ قتل کر دیں گے ۔ یه روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس سے پہلے کتاب الحج میں مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (367/3)»
حدیث نمبر: 12526
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ [ سَنَةً ] : تَمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا ، وَالثَّانِيَةَ تَمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا ، وَالثَّالِثَةَ تَمْسِكُ السَّمَاءَ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ ، وَلَا تَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ ، وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ ؟ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : بَلَى . فَتُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا تَكُونُ ضُرُوعُهَا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً " . قَالَ : " وَيَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ مَاتَ أَبُوهُ وَمَاتَ أَخُوهُ ، فَيَقُولُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى . فَتُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ " . ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ لَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ . قَالَتْ : وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ . قَالَتْ : فَأَخَذَ بِلُحْمَتَيِ الْبَابِ ، وَقَالَ : " مَهْيَمْ أَسْمَاءُ " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ . قَالَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ " . قَالَتْ أَسْمَاءُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجْنَتَنَا فَمَا نَخْبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " يُجْزِيُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ " ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” قیامت سے پہلے تین سال قحط سالی کے ہوں گے ، ان کے دوران ( پہلے سال میں ) آسمان اپنی بارش کے ایک تہائی حصے کو روک لے گا ، زمین اپنی پیداوار کے ایک تہائی حصے کو روک لے گی ، پھر دوسری مرتبہ آسمان اپنی بارش کے دو تہائی حصے کو روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی حصے کو روک لے گی اور تیسری مرتبہ آسمان اپنی پوری بارش کو روک لے گا ، اور زمین اپنی پوری پیداوار کو روک لے گی ، اس وقت کوئی کھروں والا یا دانتوں والا جانور باقی نہیں رہے گا ، وہ ( سب ) ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور اس کے فتنے میں سب سے زیادہ سخت یہ بات ہو گی کہ وہ کسی دیہاتی کے پاس آ کر کہے گا : تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر میں تمہارے اونٹ کو تمہارے لئے زندہ کر دوں ، تو کیا تم یہ بات نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو وہ دیہاتی کہے گا : جی ہاں ، تو شیاطین اس شخص کے سامنے اس کے اونٹ کی مانند بن کے آ جائیں گے ، جس کے تھن پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے اور جس کی کوہان پہلے سے زیادہ بڑی ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ایک شخص آئے گا جس کا باپ یا بھائی انتقال کر چکے ہوں گے ، تو دجال کہے گا : اگر میں تمہارے باپ کو تمہارے لئے زندہ کر دوں یا تمہارے بھائی کو تمہارے لئے زندہ کر دوں ، تو کیا تم یہ بات نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں ، وہ شخص جواب دے گا : جی ہاں ۔ تو وہ شیاطین اس کے سامنے اس کے باپ کی مانند یا اس کے بھائی کے مانند بن کے آ جائیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے ، تو راوی خاتون بیان کرتی ہیں : لوگ پریشانی کا شکار تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو بات بتائی تھی ، اس کے حوالے سے غمگین تھے ، راوی خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا اور فرمایا : اے اسماء کیا ہوا ہے ، راوی خاتون کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دجال کا ذکر کر کے آپ نے ہمیں پریشان کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ نکلا اور میں اس وقت زندہ ہوا تو میں اس کے لئے رکاوٹ بن جاؤں گا ورنہ میرا پروردگار میری جگہ ہر مومن کے لئے کافی ہو گا ۔ “ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم آٹا گوندھتی ہیں ، اور ابھی ہم نے روٹی نہیں پکائی ہوئی ہوتی کہ ہمیں بھوک لگ جاتی ہے ، تو اس وقت مومنین کا کیا عالم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومنین کے لئے وہ چیز کفایت کر جائے گی جو آسمان والوں کے لئے کفایت کر جاتی ہے ، جس کا تعلق تسبیح و تقدیس سے ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (158/24) اخرجه احمد فى المسند (455/6)»
حدیث نمبر: 12527
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً فَحَدَّثَهُمْ عَنْ أَعْوَرَ الدَّجَّالِ ، وَزَادَ فِيهِ : فَقَالَ : " مَهْيَمْ " . وَكَانَتْ كَلِمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَقُولُ : " مَهْيَمْ " ، وَزَادَ " فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ كَلَامِي مِنْكُمْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَفِي إِحْدَاهَا " يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سُنُونَ خَمْسٌ جُدْبٌ " ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوَشْبٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، آپ نے کانے دجال کے بارے میں ان لوگوں کو بتایا ، اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میہم ! یہ وہ کلمہ ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ارشاد فرماتے تھے جب کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا تو آپ یہ فرماتے تھے : میہم ! اور اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” تم میں سے جو شخص میری محفل میں موجود ہے ، اور اس نے میرا کلام سنا ہے تو موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے اور تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ صحیح ہے ۔ وہ کانا نہیں ہے اور دجال کانا ہو گا اس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص ( ہر کوئی ) پڑھ سکے گا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے مختلف طرق سے نقل کی ہیں ۔ اس کے ایک طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے خروج سے پہلے کے پانچ سال قحط سالی کے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (456/6)»
حدیث نمبر: 12528
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خَوْزَ وَكَرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَّانِ الْمُطْرَقَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَتَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” دجال ستر ہزار لوگوں کے ساتھ خوض اور کرمان میں پڑاؤ کرے گا ، ان لوگوں کے چہرے اوپر نیچے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور
یہ روایت امام بزار نے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12528
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3390) اخرجه احمد فى المسند (337/2)»
حدیث نمبر: 12529
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَجْمَعِ السُّيُولِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَنْزِلِ الدَّجَّالِ مِنَ الْمَدِينَةِ ؟ هَذَا مَنْزِلُهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر نالوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ پر پہنچے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں یہ بات نہ بتاؤں کہ مدینہ منورہ میں دجال کے پڑاؤ کرنے کی جگہ کون سی ہو گی ؟ یہ اس کے پڑاؤ کی جگہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6544)»
حدیث نمبر: 12530
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا ، وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهَا ، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، عَرِيضُ النَّحْرِ ، فِيهِ دَفَأٌ كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نکل کر تمہارے پاس آیا ، مجھے لیلۃ القدر کے بارے میں اور گمراہی والے دجال کے بارے میں بتایا گیا تھا ، تو مسجد کے دروازے کے پاس دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے ، میں ان دونوں کے پاس آیا تاکہ ان کا جھگڑا ختم کروں ، تو مجھے یہ دونوں چیزیں بھلا دی گئیں ، البتہ میں ان میں سے تھوڑی سی چیز تمہارے سامنے ذکر کرتا ہوں ، جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے ، تو تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، تو وہ کانا ہو گا اس کا ماتھا صاف ہو گا ( یعنی اس کے آگے کے بال نہیں ہوں گے ) اس کی پیشانی چوڑی ہو گی ، اس میں آگے کی طرف جھکنا ہو گا ، وہ قطن بن عبدالعزیٰ سے مشابہت رکھتا ہو گا ، اُن صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے ساتھ مشابہت رکھنا کیا مجھے نقصان پہنچائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ، تم ایک مسلمان شخص ہو اور وہ کافر شخص ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کے سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12531
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ : " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِعَبْدٍ قَدْ سُخِّرَتْ لَهُ أَنْهَارُ الْأَرْضِ وَثِمَارُهَا ؟ فَمَنِ اتَّبَعَهُ أَطْعَمَهُ وَأَكْفَرَهُ ، وَمَنْ عَصَاهُ حَرَمَهُ وَمَنَعَهُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْجَارِيَةَ لَتَجْلِسُ عِنْدَ التَّنُّورِ سَاعَةً لِخُبْزِهَا فَأَكَادُ أَفْتَتِنُ فِي صَلَاتِي ، فَكَيْفَ بِنَا إِذَا كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَعْصِمُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ بِمَا عَصَمَ بِهِ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں ان کے ہاں تشریف لائے ، پھر آپ تشریف لے گئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فاقہ کشی کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تمہیں ایک ایسے بندے کے حوالے سے آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا کہ جس کے لئے زمین کی نہریں اور زمین کے پھل مسخر کر دیے جائیں گے ، جو شخص اس کی پیروی کرے گا وہ اسے کھانے کے لئے دے گا ، اور جو شخص اس کی نافرمانی کرے گا ، وہ اسے محروم رکھے گا اور روک دے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کنیز تنور کے پاس گھڑی بھر کے لئے بیٹھتی ہے ، تاکہ روٹی لگائے ، تو اسی دوران ( بھوک کی شدت کی وجہ سے ) میں اپنی نماز کے حوالے سے آزمائش کا شکار ہو جاتی ہوں ، تو جب اس طرح کی صورت حال ہو گی ، اس وقت ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس چیز کے حوالے سے بچا لے گا ، جس کے حوالے سے فرشتے بچے ہوئے ہیں ، اور وہ تسبیح ہے ، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12531
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (157/24)»
حدیث نمبر: 12532
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِخَبَرٍ جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ " . فَذَكَرَ حَدِيثَ الْجَسَّاسَةِ وَزَادَ فِيهِ " هُوَ الْمَسِيحُ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ طَيْبَةَ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَطَيْبَةُ الْمَدِينَةُ ، مَا بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ مُصْلِتٌ سَيْفَهُ يَمْنَعُهُ ، وَبِمَكَّةَ مِثْلُ ذَلِكَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میں نے تمہیں اس لئے جمع نہیں کیا کہ آسمان سے کوئی خبر آئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے جساسہ والی روایت ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کے : ” وہ دجال ہو گا جس کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا ، وہ چالیس دن میں ( پوری زمین کا چکر لگا لے گا ) البتہ وہ طیبہ میں نہیں آ سکے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے ۔ اس کے ہر دروازے پر فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہو گا ، جو اسے ( یعنی دجال کو ) اندر داخل ہونے نہیں دے گا ، اور مکہ میں بھی اسی طرح ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12532
درجۂ حدیث محدثین: رجال أحدهما رجال الصحيح.
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2164)»
حدیث نمبر: 12533
وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ : هَلْ تُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ ؟ فَقُلْتُ لَا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ ، مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي فِي أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ لَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ ، وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ ، وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تُدَاخِّنُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ وَقَالَ فِي أُخْرَى : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووداک بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم لوگ خوارج کو دجال قرار دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں ایک ہزار یا اس سے زیادہ ( یہ شک راوی کو ہے ) انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، جس بھی نبی کو پیدا کیا گیا ، جس کی پیروی کی گئی ، تو اس ( نبی ) نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میرے لئے اس کے حوالے سے ایک ایسی چیز کو واضح کیا گیا ہے ، جو کسی اور نبی کے لئے واضح نہیں کی گئی ، وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ اس کی دائیں آنکھ کانی ہو گی اور وہ ابھری ہوئی ہو گی جو چھپے گی نہیں ، وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی ۔ اس کی بائیں آنکھ یوں ہو گی جیسے چمکتا ہوا ستارہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہر زبان ہو گی ( یعنی ہر زبان کے ماننے والے ہوں گے یا اسے ہر زبان آتی ہو گی ) اس کے ساتھ جنت کی شکل کی چیز ہو گی جو سرسبز ہو گی ، جس میں پانی چل رہا ہو گا ، اور جہنم کی شکل کی چیز ہو گی جو سیاہ ہو گی ، جس میں دھواں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ قومی نہیں ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (79/3)»
حدیث نمبر: 12534
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبْخَةِ بِمَرِّ قَنَاةَ ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ لَيَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوِ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ : هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال مرقناة “ کے مقام پر اس شوریدہ زمین پر پڑاؤ کرے گا ، اس کے پاس نکل کر جانے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہو گی ، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے قریبی شخص یا اپنی ماں یا اپنی بیٹی یا اپنی پھوپھی کے پاس آئے گا ، اور اسے باندھ دے گا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ نکل کر اس ( دجال ) کے پاس نہ چلی جائے ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا ، اور مسلمان اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیں گے ، یہاں تک کہ کوئی یہودی کسی درخت کے یا پتھر کے پیچھے چھپے گا ، تو وہ پتھر یا درخت ، مسلمان سے کہیں گے : یہ یہودی میرے پیچھے موجود ہے ، تم اسے قتل کر دو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13197) اخرجه احمد فى المسند (5353)»
حدیث نمبر: 12535
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ : " أُحَذِّرُكُمُ الْمَسِيحَ وَأُنْذِرُكُمُوهُ ، وَكُلُّ نَبِيٍّ قَدْ حَذَّرَهُ قَوْمَهُ ، وَهُوَ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ ، وَسَأَحْكِي لَكُمْ مِنْ نَعْتِهِ مَا لَمْ تَحْكِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلِي لِقَوْمِهِمْ ، يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سُنُونَ خَمْسٌ جُدْبٌ حَتَّى يَهْلِكَ كُلُّ ذِي حَافِرٍ " . فَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبِمَ يَعِيشُ الْمُؤْمِنُونَ ؟ قَالَ : " بِمَا يَعِيشُ بِهِ الْمَلَائِكَةُ . وَهُوَ أَعْوَرُ ، وَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ، أَكْثَرُ مَنْ يَتَّبِعُهُ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ وَالْأَعْرَابُ ، تَرَوْنَ السَّمَاءَ تُمْطِرُ وَهِيَ لَا تُمْطِرُ وَالْأَرْضَ تُنْبِتُ وَهِيَ لَا تُنْبِتُ ، وَيَقُولُ لِلْأَعْرَابِ : مَا تَبْغُونَ مِنِّي ؟ أَلَمْ أُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَأُحْيِي لَكُمْ أَنْعَامَكُمْ شَاخِصَةً ذُرَاهَا خَارِجَةً خَوَاصِرُهَا دَارَّةً أَلْبَانُهَا ؟ وَتُبْعَثُ مَعَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ مَنْ مَاتَ مِنَ الْآبَاءِ وَالْإِخْوَانِ وَالْمَعَارِفِ ، فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ إِلَى أَبِيهِ وَأَخِيهِ وَذِي رَحِمِهِ فَيَقُولُ : أَلَسْتَ فُلَانًا ؟ أَلَسْتَ تَعْرِفُنِي ؟ هُوَ رَبُّكَ فَاتَّبِعْهُ ، يُعَمَّرُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، السَّنَةُ كَالشَّهْرِ ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ ، وَالْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ ، وَالسَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعْفَةِ فِي النَّارِ ، يَرِدُ كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْمَسْجِدَيْنِ " . ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ فَسَمِعَ بُكَاءَ النَّاسِ وَشَهِيقَهُمْ ، فَرَجَعَ فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَاللَّهُ كَافِيكُمْ وَرَسُولُهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَلَا يَحْتَمِلُ مُخَالَفَتَهُ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ إِنَّهُ يَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَفِي هَذَا أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اصحاب کے درمیان یہ ارشاد فرماتے ہوے سنا : ” میں تمہیں دجال سے بچنے کی تلقین کر رہا ہوں اور تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور اے امت وہ تمہارے درمیان رونما ہو گا ، اور میں تمہارے سامنے اس کے حلیے میں سے ایک ایسی چیز بیان کر دوں گا ، جو دیگر انبیاء نے اپنی اقوام کے سامنے بیان نہیں کی ، اس کے نکلنے سے پہلے خشک سالی کے پانچ سال ہوں گے ، یہاں تک کہ ہر جانور مر جائے گا ، ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! تو مومنین کیسے زندہ رہیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز ( یعنی ذکر اذکار ) کے ذریعے ، جس کے ذریعے فرشتے زندہ رہتے ہیں ، دجال کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ؟ جسے ہر مومن پڑھ سکے گا ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ، دجال کے پیروکاروں میں اکثریت یہودیوں عیسائیوں اور دیہاتیوں کی ہو گی ، تم لوگ آسمان کو دیکھو گے کہ وہ بارش نازل کر رہا ہے ، حالانکہ بارش نازل نہیں ہو رہی ہو گی ، تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ نباتات اگا رہی ہے ، حالانکہ وہ نباتات نہیں اگا رہی ہو گی ، دجال دیہاتیوں سے کہے گا : تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ کیا میں نے تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل نہیں کی ہے ؟ کیا میں نے تمہارے لے تمہارے جانوروں کو زندہ نہیں کر دیا کہ وہ صحت مند ہو چکے ہیں اور ان کے دودھ زیادہ ہو چکے ہیں ؟ پھر دجال کے ساتھ کچھ شیاطین کو بھیجا جائے گا ، جو لوگوں کے مرے ہوئے آباؤ اجداد ، بھائیوں اور رشتے داروں کی شکل و صورت والے ہوں گے ، لوگوں میں سے کوئی ایک شخص رشتہ دار کے پاس آئے گا ، اور کہے گا : کیا تم فلاں نہیں ہو ، کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کرو ، دجال چالیس دن تک رہے گا جس میں ایک سال مہینے کی مانند ہو گا ، اور مہینہ ہفتے کی مانند ہو گا ، اور ہفتہ دن کی مانند ہو گا ، اور دن گھڑی کی مانند ہو گا ، اور گھڑی آگ میں جلنے کے دھبے کی مانند ہو گی ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا ، صرف دو مسجدوں تک نہیں پہنچے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ وضو کرنے لگے ، آپ نے لوگوں کی چیخ و پکار کی آواز سنی ، آپ واپس تشریف لائے اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو کہ اگر وہ نکلا اور اس وقت میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے لئے کفایت کرنے والے ہوں گے ، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو میرے بعد ہر مسلمان کا اللہ تعالیٰ نگہبان ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کا صحیح احادیث کے برخلاف نقل کرنا معتبر نہیں ہو گا ، کیونکہ اُن میں یہ مذکور ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، اور اس میں یہ مذکور ہے کہ یہ چالیس سال تک رہے گا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (169/24)»
حدیث نمبر: 12536
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَخَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهُمْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّهُ قَدْ يَتَبَيَّنْ لِي مَا لَمْ يَتَبَيَّنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَفِيهِ تَوْثِيقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ایک ہزار ( راوی کو شک ہے ) اس سے زیادہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میرے سامنے ایک ایسی چیز واضح ہوئی ہے ، جو ان انبیاء میں سے کسی کے سامنے واضح نہیں ہوئی ، دجال کانا ہو گا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3380)»
حدیث نمبر: 12537
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُكُمْ ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو میں تمہارے لے رکاوٹ بن جاؤں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوا ، تو ہر بندہ اپنی حفاظت خود کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ میری جگہ ہر مسلمان کا نگہبان ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ اس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3381)»
حدیث نمبر: 12538
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ قَالَ : أَحْسَبُهُ قَالَ : " يَخْرُجُ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں دریافت کیا گیا : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3383)»
حدیث نمبر: 12539
وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَرَأَيْتُ مَسِيحَ الضَّلَالَةِ ، فَإِذَا رَجُلَانِ فِي أَنْدَرِ فُلَانٍ يَتَلَاحَيَانِ فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا ، فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَرَجُلٌ أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، عَرِيضُ النَّحْرِ كَأَنَّهُ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر وہ مجھے بھلا دی گئی ہے ، میں نے دجال کو دیکھا ، پھر دو آدمی فلاں جگہ پر لڑائی کر رہے تھے ، میں ان دونوں کے درمیان لڑائی ختم کروانے لگا ، اسی دوران وہ چیز مجھے بھلا دی گئی ، تو تم شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو ، جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، تو وہ ایک ایسا شخص ہے ، جس کی پیشانی روشن ہو گی ( یعنی اس کے آگے کے بال اڑے ہوئے ہوں گے ) اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کی گردن چوڑی ہو گی ، وہ عبدالعزیٰ بن قطن سے مشابہت رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو اس کی مانند ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3384) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (334/18)»