مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : لَا تُكْثِرُوا ذِكْرَهُ ، فَإِنَّهُ الْأَمْرَ إِذَا قُضِيَ فِي السَّمَاءِ كَانَ أَسْرَعَ لِنُزُولِهِ إِلَى الْأَرْضِ أَنْ يَظْهَرَ عَلَى أَلْسِنَةِ النَّاسِ ، وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ آمِنُونَ وَأَنْتُمْ خَائِفُونَ ؟ وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ فِي الظِّلِّ وَأَنْتُمْ فِي الضُّحِ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ " . ¤ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس کا ذکر کثرت سے نہ کرو کیونکہ جب آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ ہو جائے ، تو وہ زمین کی طرف زیادہ تیزی سے اس وقت نازل ہوتا ہے ، جب وہ لوگوں کی زبانوں پر ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا ، جب دشمن امن میں ہو گا اور تم خوف کے عالم میں ہو گے ، اس وقت تمہارا کیا بنے گا ، جب دشمن سائے میں ہو گا اور تم لوگ دھوپ میں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام أحمد نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا ، جب تک لوگ اس کے تذکرے سے غافل نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ ائمہ منبروں پر اس کا ذکر کرنا ترک کر دیں گے ۔ “