کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا
عَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ : ¤ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ قَوْمٌ : نُصَلِّي وَلَا نُؤْتِي الزَّكَاةَ ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ : اقْبَلْ مِنْهُمْ ، قَالَ : لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا لَقَاتَلْتُهُمْ ، فَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَقَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِأَلْفٍ مِنْ طَيِّئٍ حَتَّى أَتَى الْيَمَامَةَ . ¤ قَالَ : فَكَانَ بَنُو عَامِرٍ قَدْ قَتَلُوا عُمَّالَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْرَقُوهُمْ بِالنَّارِ ، فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى خَالِدٍ أَنِ اقْتُلْ بَنِي عَامِرٍ ، وَأَحْرِقْهُمْ بِالنَّارِ ، فَفَعَلَ حَتَّى صَاحَتِ النِّسَاءُ . ثُمَّ مَضَى حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَاءِ ، خَرَجُوا إِلَيْهِ ، فَقَالُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ كَفَّ عَنْهُمْ . فَأَمَرَهُ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسِيرَ حَتَّى يَنْزِلَ الْحِيرَةَ ، ثُمَّ يَمْضِي إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا نَزَلَ الْحِيرَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ فَارِسَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ لَا أَبْرَحَ حَتَّى أُفَزِّعَهُمْ ، فَأَغَارَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سُورَا فَقَتَلَ وَسَبَى ، ثُمَّ أَغَارَ عَلَى عَيْنِ التَّمْرِ فَقَتَلَ وَسَبَى ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الشَّامِ . ¤ قَالَ عَامِرٌ : فَأَخْرَجَ إِلَى ابْنِ بُقَيْلَةَ كِتَابَ خَالِدٍ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى مَرَازِبَةِ فَارِسَ ، السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بِالْحَمْدِ الَّذِي فَصَلَ حَزْمَكُمْ ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَكُمْ ، وَوَهَّنَ بَأْسَكُمْ ، وَسَلَبَ مُلْكَكُمْ ، فَإِذَا جَاءَكُمْ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَقِدُوا مِنِّي الذِّمَّةَ ، وَأَدُّوا إِلَيَّ الْجِزْيَةَ ، وَابْعَثُوا إِلَيَّ بِالرَّهْنِ ، وَإِلَّا فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَأَلْقَاكُمْ بِقَوْمٍ يُحِبُّونَ الْمَوْتَ كَحُبِّكُمُ الْحَيَاةَ ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو کچھ لوگ مرتد ہو گئے ، اُن لوگوں نے کہا: کہ ہم نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ کیا آپ ان لوگوں سے یہ بات قبول کریں گے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ مجھے بکری کا کوئی بچہ دینے سے بھی انکار کریں گے ، تو میں اس بات پر بھی ان سے جنگ کروں گا پھر انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا عدی بن حاتم ، طے قبیلے کے ایک ہزار افراد کو لے کے یمامہ آ گئے راوی کہتے ہیں : بنو عامر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ سرکاری اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا ، اور انہیں آگ کے ذریعے جلا دیا تھا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم بنو عامر کو قتل کر دو اور انہیں آگ کے ذریعے جلا دو انہوں نے ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ عورتیں چیخیں مارنے لگے پھر وہ آگے بڑھ گئے ، یہاں تک کہ وہ پانی تک پہنچ گئے جس کی طرف نکل کر وہ آئے تھے انہوں نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں جب انہوں نے یہ بات سنی تو ان سے رک گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ چلتے رہیں ، یہاں تک کہ حیرہ پہنچ جائیں پھر وہ شام کی طرف چلے گئے جب وہ حیرہ پہنچے تو اہل فارس نے انہیں خط لکھا ، اور پھر یہ کہا: کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں مسلسل انہیں خوف زدہ کرتا رہوں ، یہاں تک کہ انہوں نے ان پر حملہ کیا اور وہ سورنامی جگہ تک پہنچ گئے وہاں انہوں نے قتل و غارت گری کی اور قیدی بنایا پھر انہوں نے عین تمر پر حملہ کیا وہاں قتل و غارت گری کی اور لوگوں کو قیدی بنایا پھر وہ شام کی طرف چلے گئے ۔ عامر شعبی بیان کرتے ہیں : ابن بقیلہ نے مجھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا مکتوب نکال کر دکھایا جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سپہ سالاروں کے نام ہے اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کر لیتا ہے میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ایسی حمد جس نے تمہاری اجتماعیت کو توڑ دیا تمہاری جماعت کو منتشر کر دیا ، اور تمہاری مضبوط چیزوں کو کمزور کر دیا ، اور تمہاری بادشاہی کو سلب کر لیا جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم میری طرف سے ذمہ قبول کر لینا اور مجھے جزیہ ادا کرنا اور چیزیں میری طرف بھجوا دینا اگر ایسا نہ ہوا تو اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں ایسے لوگوں کے ساتھ تم سے لڑوں گا ، جو موت کو اس طرح پسند کرتے ہیں جس طرح تم لوگ زندگی کو پسند کرتے ہو اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (93/18)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ¤ لَمَّا فَرَغَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الْيَمَامَةِ بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانَ الْعَلَاءُ هُوَ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى الْعَبْدِيِّ ، فَأَسْلَمَ الْمُنْذِرُ ، فَأَقَامَ الْعَلَاءُ بِهَا أَمِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَدَّتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ فِي مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا الْجَارُودَ بْنَ عَمْرٍو ; فَإِنَّهُ ثَبَتَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ . ¤ وَاجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ وَارْتَدَتْ ، وَقَالُوا : تَرُدُّ الْمُلْكَ فِي آلِ الْمُنْذِرِ ، فَكَلَّمُوا الْمُنْذِرَ بْنَ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، وَكَانَ يُسَمَّى الْغَرُورَ ، وَكَانَ يَقُولُ بَعْدُ حِينَ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ النَّاسُ وَعَلَيْهِمُ السَّيْفُ : لَسْتُ بِالْغَرُورِ وَلَكِنِّيَ الْمَغْرُورُ . ¤ فَلَمَّا اجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ ، سَارَ إِلَيْهِمُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، وَأَمَدَّهُ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِ ، وَكَانَ قَدْ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ قَوْمُهُ ، فَلَمَّا أَمَرَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ ، سَارَ مَعَهُ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي سُحَيْمٍ حَتَّى خَاضَ إِلَى رَبِيعَةَ الْبَحْرَ ، فَسَارَتْ رَبِيعَةُ إِلَيْهِمْ فَحَصَرُوهُمْ وَهُمْ بِجُوَاثَا - حِصْنٍ بِالْبَحْرَيْنِ - حَتَّى إِذَا كَادَ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَهْلِكُوا مِنَ الْجَهْدِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ الْعَامِرِيُّ فِي ذَلِكَ حِينَ أَصَابَهُمْ مَا أَصَابَهُمْ : ¤ أَلَا بَلِّغْ أَبَا بَكْرٍ رَسُولًا وَفِتْيَانَ الْمَدِينَةِ أَجَمْعِينَا فَهَلْ لَكَ فِي شَبَابٍ مِنْكَ أَمْسَوْا ¤ جَمِيعًا فِي جُوَاثَا مُحْصِرِينَا تَوَكَّلْنَا عَلَى الرَّحْمَنِ إِنَّا ¤ وَجَدْنَا النَّصْرَ لِلْمُتَوَكِّلِينَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ : دَعُونِي أَهْبِطْ مِنَ الْحِصْنِ وَأَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ ، وَكَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَدَقٍ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عِجْلٍ ، وَنَزَلَ مِنَ الْحِصْنِ ، وَأَخَذُوهُ ، وَقَالُوا : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَانْتَسَبَ ، وَجَعَلَ يُنَادِي : يَا أَبْجَرَاهُ ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ ، فَجَاءَ أَبْجَرُ وَعَرَفَهُ ، وَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي قَدْ هَلَكْتُ مِنَ الْجُوعِ . فَحَمَلَهُ وَسَقَاهُ ، وَقَالَ : احْمِلْنِي وَخَلِّ سَبِيلِي ، فَانْطَلَقَ وَحَمَلَهُ عَلَى بَغْلٍ ، وَقَالَ : انْطَلِقْ لِشَأْنِكَ . فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْقَوْمَ سُكَارَى لَا غَنَاءَ عِنْدَهُمْ ، فَبَيَّتَهُمُ الْعَلَاءُ فِيمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، ، فَقَتَلُوهُمْ قَتْلًا شَدِيدًا وَانْهَزَمُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ سے فارغ ہوئے ، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا سیدنا علاء وہ شخصیت ہیں ، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن ساوی عبدی کی طرف بھیجا تھا تو منذر نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ سیدنا علاء وہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امیر کے طور پر رہے تھے بحرین میں ربیعہ مرتد ہو گئے یہ ان لوگوں میں شامل تھے جو عرب مرتد ہوئے تھے صرف جارود بن عمرو مرتد نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ اسلام پر برقرار رہے تھے اور ان کی قوم میں سے ان کی پیروی کرنے والے لوگ بھی اسلام پر برقرار رہے تھے ۔ ربیعہ ، بحرین میں اکٹھے ہوئے وہ لوگ مرتد ہو گئے تھے انہوں نے یہ کہا: کہ بادشاہی آل منذر میں واپس آئے گی انہوں نے اس بارے میں منذر بن نعمان بن منذر کے ساتھ بات چیت کی جنہیں غرور کہا: جاتا تھا بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تو وہ یہ کہا: کرتے تھے : میں غرور نہیں ہوں بلکہ میں مغرور ہوں ۔ جب ربیعہ قبیلے کے لوگ بحرین میں اکٹھے ہوئے ، تو سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ ان کی طرف روانہ ہوئے سیدنا ثمامہ بن اثال حنفی رضی اللہ عنہ ان کی امداد کے لئے آئے جو مسلمان ہو چکے تھے اور ان کی قوم بھی مسلمان ہو چکی تھی جب علاء بن حضرمی نے سیدنا ثمامہ کو امیر بنایا تو ان کے ساتھ بنو سحیم سے تعلق رکھنے والے افراد بھی روانہ ہو گئے یہاں تک کہ یہ لوگ ربیعہ البحر تک پہنچ گئے ربیعہ ان لوگوں کی طرف آئے ان لوگوں نے جواثا کے مقام پر ان کا محاصرہ کر لیا جو بحرین میں موجود ایک قلعہ ہے ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسلمان بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتے اس صورت حال کے بارے میں عبداللہ بن حدق عامری نے یہ اشعار کہے ہیں : ” خبردار سیدنا ابوبکر اور مدینہ منورہ کے تمام نوجوانوں تے قاصد ( کے ذریعے یہ پیغام ) بھیج دو ، کیا آپ کو ، آپ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں ( کے بارے میں جاننے میں ) کوئی دلچسپی ہے ، جنہوں نے ” جواثا “ کے مقام پر محاصرہ کیا ہوا ہے ، ہم نے رحمن پر توکل کیا ہے ، اور ہم نے توکل کرنے والوں کے لیے مدد پائی ہے “ ۔ پھر عبداللہ بن حدق نے کہا: تم لوگ مجھے موقع دو تاکہ میں قلعے سے اتر کر نیچے جاؤں اور تم لوگوں کے پاس خبر لے کے آؤں عبداللہ بن حدق کے ساتھ بنو عجل سے تعلق رکھنے والی ایک عورت بھی تھی وہ قلعے سے نیچے اترے لوگوں نے انہیں پکڑ لیا اور دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے اس نے اپنا نسب بیان کرنا شروع کیا اور پھر بلند آواز میں پکارا اے ابجر وہ صاحب لوگوں میں موجود تھے ابجر آ گئے ، اور انہیں پہچان گئے ، اور بولے : تمہارا کیا معاملہ ہے اس نے بتایا : میں بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہونے والا ہوں تو انہوں نے انہیں کھانا دیا پانی پلایا پھر یہ کہا: کہ مجھے سواری دو اور میرا راستہ چھوڑ دو پھر وہ گئے ، اور انہیں ایک خچر سواری کے لئے دیا ، اور پھر کہا: کہ تم اپنے کام کے سلسلے میں چلے جاؤ جب عبداللہ بن حدق ان کے پاس سے نکل گئے ، تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے ، اور انہیں بتایا : دشمن برے حال میں ہیں ان کے پاس اناج نہیں ہے ، تو سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود مسلمانوں جن کا تعلق عربیوں اور عجمیوں سے تھا ان کو ساتھ لے کر دشمن پر حملہ کر دیا ، اور انہیں زبردست طریقے سے قتل کیا ، یہاں تک کہ دشمن پسپا ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10389
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : ¤ وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فِي جَيْشٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ قِبَلَ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانُوا قَدْ مَنَعُوا الْجِزْيَةَ الَّتِي سَلَّمُوا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ افْتَتَحَهَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْجِزْيَةِ ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ إِلَيْهِمْ حِينَ مَنَعُوا حَقَّ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ ، فَسَارَ إِلَيْهِمْ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْبَحْرُ حَتَّى مَشَوْا فِيهِ بِأَرْجُلِهِمْ ، فَقَطَعُوا كَذَلِكَ بِمَكَانٍ كَانَتْ تَجْرِي فِيهِ السُّفُنُ قَبْلَ ذَلِكَ ، وَهِيَ تَجْرِي فِيهِ الْيَوْمَ ، وَقَاتَلَهُمْ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَسَلَّمُوا وَامْتَنَعُوا مِنْ حَقِّ اللَّهِ - تَعَالَى - مِنْ أَمْوَالِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے ایک لشکر میں اہل بحرین کی طرف بھیجا جنہوں نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا جو جزیہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے جب سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے ان کے علاقے کو فتح کیا تھا ، اور انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ جزیہ پر ہی صلح کی تھی جب ان لوگوں نے اپنے اموال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے سے انکار کر دیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ ان کی طرف روانہ ہوئے سیدنا علاء رضی اللہ عنہ اور ان لوگوں کے درمیان سمندر موجود تھا وہ پیدل چلتے رہے ، اور یہ راستہ پار کرتے رہے اسی طرح وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کشتیاں چلتی تھیں سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان لوگوں پر غلبہ عطا کر دیا ، اور ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ، پہلے کی طرح ادا کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی سند نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (96/18)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ - يَعْنِي الْجُمَحِيِّ - قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِرَارُ بْنُ الْأَزْوَرِ تَوَلَّى قَتْلَ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ ، وَفِي ذَلِكَ يَقُولُ مُتَمِّمُ بْنُ نُوَيْرَةَ وَيُعَرِّضُ بِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ : ¤ ¤ نِعْمَ الْقَتِيلُ إِذَا الرِّيَاحُ تَنَاوَحَتْ حَيْثُ الْعِضَاةُ قَتِيلُكَ ابْنُ الْأَزْوَرِ وَلَنِعْمَ حَشْوُ الدِّرْعِ حِينَ لَقِيتَهُ ¤ وَلَنِعْمَ مَأْوَى الطَّارِقِ الْمُتَنَوِّرِ سَمْحٌ بِأَطْرَافِ الْقِدَاحِ إِذَا انْتَشَى ¤ حُلْوٌ حَلَالُ الْمَالِ غَيْرُ غَدْوَرِ لَا يَلْبَسُ الْفَحْشَاءَ تَحْتَ ثِيَابِهِ ¤ صَعْبٌ مَقَادَتُهُ عَفِيفُ الْمِئْزَرِ أَدَعَوْتَهُ بِاللَّهِ ثُمَّ قَتَلْتَهُ ¤ لَوْ هُوَ دَعَاكَ بِذِمَّةٍ لَمْ يَغْدِرِ نِعْمَ الْفَوَارِسُ يَوْمَ حَلَّتْ غَادَرَتْ ¤ فُرْسَانُ فِهْرٍ فِي الْغُبَارِ الْأَكْدَرِ . ¤ وَيُرْوَى : فِي الْكَدُورِ الْأَكْدَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں : ابوعبیدہ نے یہ بات بیان کی ہے ضرار بن ازور نے مالک بن نمیرہ کو قتل کیا تھا اسی بارے میں متمم بن نویرہ نے یہ شعر کہا: ہے ۔ انہوں نے سیدنا خالد بن ولید پر تعریض کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں : ” جب درختوں میں ہر طرف سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں اس وقت تمہارے ہاتھوں قتل ہونے والا ابن ازور ، اچھا مقتول ہے ، اس کی زرہ اچھی تھی ، جب میں اس سے ملا تھا اور وہ روشن طارق ( نامی ستارے ) کا اچھا ٹھکانہ ہے ، تیروں کے کناروں میں نرمی ، جب حلال مال کی مٹھاس کسی عہد شکنی کے بغیر ، لڑھک جائے ، اس نے اپنے لباس کے نیچے فحاشی کو نہیں پہنا ، وہ مشکل تھا لیکن پاکدامن فرد تھا ، تم نے اس کو اللہ کے نام پر دعوت دی اور پھر اسے قتل کر دیا ، اگر اس نے تمہیں پناہ دی ہوتی تو اس نے عہد شکنی نہیں کرنی تھی ، جنگ کے دن بہترین شہسوار ، فہر کے شہسوار ہیں جو گہرے غبار میں بھی ( زبردست شہسوار ہوتے ہیں ) “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8126)»
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : ¤ جَاءَ أَهْلُ الرِّدَّةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهُ الصُّلْحَ ، فَقَالَ : عَلَى أَنْ نَنْزِعَ مِنْكُمُ الْحَلَقَةَ وَالْكُرَاعَ ، وَتُتْرَكُونَ تَبِيعُونَ أَذْنَابَ الْبَقَرِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُؤْمِنِينَ رَأْيًا يَعْذُرُونَكُمْ بِهِ ، وَتَشْهَدُونَ أَنَّ قَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ ، وَتَدُونَ قَتْلَانَا ، وَلَا نَدِي قَتْلَاكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ ، غَيْرَ أَنَّ قَتْلَانَا قُتِلُوا فِي ذِمَّةِ اللَّهِ لَا دِيَةَ لَهُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : اسد اور غطفان قبیلے سے تعلق رکھنے والے مرتد ہونے والے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور ان سے صلح کی درخواست کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شرط پر کہ ہم تم سے زرہیں اور گھوڑے الگ کر لیں گے ، اور تمہیں یوں چھوڑ دیں گے کہ تم گائے کی دموں کے پیچھے جاتے رہو ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے خلیفہ کو اور اہل ایمان کو وہ صورت حال دکھا دے کہ جس کی بنیاد پر وہ تمہاری معذرت قبول کر لیں اور تم اس بات کی بھی گواہی دو گے کہ تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ، اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں ، اور تم ہماری مقتولین کی دیت دو گے لیکن ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں دیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ بات اسی طرح ہے ، جس طرح آپ نے بیان کیا ہے لیکن ہمارے مقتولین اللہ کے ذمہ میں قتل ہوئے ہیں اس لئے انہیں دیت نہیں ملے گی ۔ ( علام ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1974)»
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " هَذِهِ الْحِيرَةُ الْبَيْضَاءُ قَدْ رُفِعَتْ لِي ، وَهَذِهِ الشَّيْمَاءُ بِنْتُ بُقَيْلَةَ الْأَزْدِيَّةُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ مُعْتَجِرَةٌ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ نَحْنُ دَخَلْنَا الْحِيرَةَ ، وَوَجَدْنَاهَا عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَهِيَ لِي ؟ قَالَ : " هِيَ لَكَ " . ¤ ثُمَّ ارْتَدَتِ الْعَرَبُ فَلَمْ يَرْتَدَّ أَحَدٌ مِنْ طَيِّءٍ ، فَكُنَّا نُقَاتِلُ قَيْسًا عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمِنْهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ ، وَكُنَّا نُقَاتِلُ طُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ الْفَقْعَسِيَّ ، فَامْتَدَحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ : ¤ جَزَى اللَّهُ عَنَّا طَيِّئًا فِي دِيَارِهَا بِمُعْتَرَكِ الْأَبْطَالِ خَيْرَ جَزَاءِ هُمْ أَهْلُ رَايَاتِ السَّمَاحَةِ وَالنَّدَى ¤ إِذَا مَا الصِّبَا أَلَوَتْ بِكُلِّ خِبَاءِ هُمْ ضَرَبُوا قَيْسًا عَلَى الدِّينِ بَعْدَمَا ¤ أَجَابُوا مُنَادِيَ ظُلْمَةٍ وَعَمَاءِ . ¤ ثُمَّ سَارَ خَالِدٌ إِلَى مُسَيْلِمَةَ ، فَسِرْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ فَرَأَيْنَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ . ¤ قَالَ أَبُو السَّكَنِ : وَبِهِ يُضْرَبُ الْمَثَلُ ، تَقُولُ الْعَرَبُ : أَكْفَرُ مِنْ هُرْمُزَ . ¤ فَبَرَزَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ ، فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَتُهُ مِائَةَ أَلْفٍ . ثُمَّ سِرْنَا عَلَى طَرِيقِ الطَّرْفِ حَتَّى دَخَلْنَا الْحِيرَةَ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ تَلَقَّانَا فِيهَا الشَّيْمَاءُ بِنْتُ بُقَيْلَةَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَلَّقْتُ بِهَا ، وَقُلْتُ : هَذِهِ وَهَبَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَدَعَانِي خَالِدٌ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَسَلَّمَهَا إِلَيَّ ، وَنَزَلَ إِلَيْنَا أَخُوهَا عَبْدُ الْمَسِيحِ ، فَقَالَ لِي : بِعْنِيهَا ؟ فَقُلْتُ : لَا أَنْقُصُهَا وَاللَّهِ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ شَيْئًا ، فَدَفَعَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَقِيلَ لِي : لَوْ قُلْتَ مِائَةَ أَلْفٍ لَدَفَعَهَا إِلَيْكَ ، فَقُلْتُ : مَا أَحْسَبُ أَنَّ مَالًا أَكْثَرُ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ . ¤ وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الشَّاهِدَيْنِ كَانَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فِي بَابِ قِتَالِ فَارِسَ وَالرُّومِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا لِقِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” یہ سفید حیرہ ہے ، جو میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ، اور یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے ، جو سفید خچر پر سوار ہے ، اور اس نے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حیرہ میں داخل ہوں گے ، تو جب یہ صورت حال پائیں گے ، تو وہ عورت میری ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی راوی کہتے ہیں : پھر عرب مرتد ہو گئے لیکن طے قبیلے میں کوئی مرتد نہیں ہوا تو ہم قیس قبیلے کے لوگوں کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتے رہے ان میں سے ایک عیینہ بن حصن تھا ، اور ہم طلیحہ بن خویلد فقعسی کے ساتھ جنگ کرتے رہے ہم نے سیدنا خالد بن ولید کی تعریف کی ان کے بارے میں جو کچھ کہا: گیا اس میں یہ اشعار بھی ہیں : ” اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے طے قبیلے کے افراد کو بہترین جزائے خیر عطا کرے ، جو اپنے علاقوں میں بہادروں کی آماجگاہ ہیں ، وہ نرمی اور بھلائی کے جھنڈوں کو اٹھانے والے ہیں ، جب تک صبا ( نامی تیز ہوا ) ہر خیمے کو ہلاتی رہے گی ، انہوں نے دین کی وجہ سے قیس قبیلے کے لوگوں پر ضرب لگائی ، جب ( قیس قبیلے کے لوگوں نے ) ظلمت اور اندھے پن کے منادی کی بات کو قبول کیا “ ۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف روانہ ہوئے ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے ، تو ہم بصرہ کی ایک نواحی بستی کی طرف آئے ہم نے ہرمز کو دیکھا کہ وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ اکٹھا ہو چکا ہے عربوں کا اس سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ ابوسکن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ چیز ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے عرب کہتے ہیں : ہرمز سے کفارہ دلاؤ ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے سامنے آئے انہوں نے مقابلے کے لئے للکارا تو ہرمز ان کے سامنے آیا سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو ہرمز کا سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دے دیا ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ بنتی تھی پھر ہم طرف نامی علاقے کی طرف روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم حیرہ میں داخل ہوئے وہاں ہمیں سب سے پہلے ایک خاتون ملی جو شیما بنت بقیلہ تھی وہ ایک سفید خچر پر سوار تھی اور اس نے سیاہ چادر لی ہوئی تھی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : تو میں اس کے پاس آیا اور میں نے کہا: یہ عورت اللہ کے رسول نے مجھے ہبہ کی تھی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مجھ سے ثبوت مانگا میں نے انہیں ثبوت پیش کیا ، تو انہوں نے وہ خاتون میرے حوالے کر دی اس خاتون کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا: اس عورت کو مجھے فروخت کر دو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں ایک ہزار سے کوئی کمی نہیں کروں گا ، تو اس نے مجھے ایک ہزار درہم دے دیے مجھ سے کہا: گیا کہ اگر تم ایک لاکھ بھی کہتے تو اس نے وہ بھی تمہیں دے دینے تھے میں نے کہا: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک ہزار سے بھی زیادہ مال ہوتا ہے ۔ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ دونوں گواہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ( جنہوں نے ان صاحب کے حق میں گواہی دی تھی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس مضمون کی حدیث اس سے پہلے گزر چکی ہے ، جو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور فارسیوں اور رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں میں نے
یہ روایت مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق ہونے کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رِجالُہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4168)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : ¤ لَقِيَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : حِمَارُ الْيَمَامَةِ ، وَالرَّجُلُ طُوَالٌ فِي يَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ . ¤ قَالَ : وَكَانَ الْبَرَاءُ قَصِيرًا ، فَضَرَبَ الْبَرَاءُ رِجْلَيْهِ بِالسَّيْفِ ، فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَهُ ، فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ ، قَالَ : فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ ، فَأَغْمَدْتُ سَيْفِي ، فَمَا ضَرَبْتُ بِهِ إِلَّا ضَرْبَةً وَاحِدَةً حَتَّى انْقَطَعَ ، فَأَلْقَيْتُهُ وَأَخَذْتُ سَيْفِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سِيرِينَ لَمْ يُدْرِكِ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ الرِّجَالِ بْنِ عُنْقُوَةَ فِي إِخْبَارِهِ بِالْمُغَيَّبَاتِ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : مسیلمہ کے ساتھ جنگ کے دن سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص آیا جسے یمامہ کا گدھا کہا: جاتا تھا وہ ایک لمبا تڑنگا شخص تھا اس کے ہاتھ میں سفید تلوار تھی سیدنا براء رضی اللہ عنہ چھوٹے قد کے شخص تھے سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اس کی ٹانگوں پر تلوار ماری تو ان کا وار خطا گیا اور پھر وہ ان کی گدی پر لگ گئی ۔ وہ کہتے ہیں : پھر میں نے اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور اُس کی تلوار کو لہرایا میں نے ایک ہی ضرب لگائی تھی ، یہاں تک کہ وہ کٹ گیا تو میں نے اسے پھینک دیا ، اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابن سیرین نے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ رجال بن عنقوہ کے بارے میں روایت آگے چل کر آئے گی جو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور پوشیدہ چیزوں کے متعلق اطلاع دینے کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10394
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1181)»