مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ باب: مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ - يَعْنِي الْجُمَحِيِّ - قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِرَارُ بْنُ الْأَزْوَرِ تَوَلَّى قَتْلَ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ ، وَفِي ذَلِكَ يَقُولُ مُتَمِّمُ بْنُ نُوَيْرَةَ وَيُعَرِّضُ بِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ :
نِعْمَ الْقَتِيلُ إِذَا الرِّيَاحُ تَنَاوَحَتْ حَيْثُ الْعِضَاةُ قَتِيلُكَ ابْنُ الْأَزْوَرِ وَلَنِعْمَ حَشْوُ الدِّرْعِ حِينَ لَقِيتَهُ
وَلَنِعْمَ مَأْوَى الطَّارِقِ الْمُتَنَوِّرِ سَمْحٌ بِأَطْرَافِ الْقِدَاحِ إِذَا انْتَشَى
حُلْوٌ حَلَالُ الْمَالِ غَيْرُ غَدْوَرِ لَا يَلْبَسُ الْفَحْشَاءَ تَحْتَ ثِيَابِهِ
صَعْبٌ مَقَادَتُهُ عَفِيفُ الْمِئْزَرِ أَدَعَوْتَهُ بِاللَّهِ ثُمَّ قَتَلْتَهُ
لَوْ هُوَ دَعَاكَ بِذِمَّةٍ لَمْ يَغْدِرِ نِعْمَ الْفَوَارِسُ يَوْمَ حَلَّتْ غَادَرَتْ
فُرْسَانُ فِهْرٍ فِي الْغُبَارِ الْأَكْدَرِ .
وَيُرْوَى : فِي الْكَدُورِ الْأَكْدَرِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں : ابوعبیدہ نے یہ بات بیان کی ہے ضرار بن ازور نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا تھا اسی بارے میں متمم بن نویرہ نے یہ شعر کہا: ہے ۔ انہوں نے سیدنا خالد بن ولید پر تعریض کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں : ” کیا ہی اچھا مقتول ہے ، جب درختوں میں ہر طرف سے تیز ہوائیں چلتی ہیں ، اے ابن ازور ! وہ جسے تم نے قتل کیا ، جب تم اس سے ملے تو زرہ پہننے والا کیا ہی اچھا تھا ، اور رات کو آگ دیکھ کر آنے والے مسافر کے لئے کیا ہی اچھا ٹھکانہ تھا ، سرور میں ہوتا تو جوئے کے تیروں میں فیاض ہوتا ، شیریں مزاج ، حلال مال والا ، بے وفائی نہ کرنے والا تھا ، اس نے اپنے کپڑوں کے نیچے بے حیائی کو نہیں پہنا ، اس کی باگ ڈور تھامنا مشکل تھا ، وہ پاکدامن تھا ، کیا تم نے اسے اللہ کے نام پر بلایا اور پھر اسے قتل کر دیا ؟ اگر وہ تمہیں کسی عہد کے تحت بلاتا تو بے وفائی نہ کرتا ، اس دن کیا ہی اچھے شہسوار تھے جب فہر کے شہسواروں نے ( اسے ) گہرے غبار میں چھوڑ دیا “ ۔ ایک روایت میں ’ گہرے غبار ‘ کی جگہ ’ گہری تاریکی ‘ کے الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔