حدیث نمبر: 10388
عَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ : ¤ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ قَوْمٌ : نُصَلِّي وَلَا نُؤْتِي الزَّكَاةَ ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ : اقْبَلْ مِنْهُمْ ، قَالَ : لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا لَقَاتَلْتُهُمْ ، فَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَقَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِأَلْفٍ مِنْ طَيِّئٍ حَتَّى أَتَى الْيَمَامَةَ . ¤ قَالَ : فَكَانَ بَنُو عَامِرٍ قَدْ قَتَلُوا عُمَّالَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْرَقُوهُمْ بِالنَّارِ ، فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى خَالِدٍ أَنِ اقْتُلْ بَنِي عَامِرٍ ، وَأَحْرِقْهُمْ بِالنَّارِ ، فَفَعَلَ حَتَّى صَاحَتِ النِّسَاءُ . ثُمَّ مَضَى حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَاءِ ، خَرَجُوا إِلَيْهِ ، فَقَالُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ كَفَّ عَنْهُمْ . فَأَمَرَهُ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسِيرَ حَتَّى يَنْزِلَ الْحِيرَةَ ، ثُمَّ يَمْضِي إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا نَزَلَ الْحِيرَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ فَارِسَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ لَا أَبْرَحَ حَتَّى أُفَزِّعَهُمْ ، فَأَغَارَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سُورَا فَقَتَلَ وَسَبَى ، ثُمَّ أَغَارَ عَلَى عَيْنِ التَّمْرِ فَقَتَلَ وَسَبَى ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الشَّامِ . ¤ قَالَ عَامِرٌ : فَأَخْرَجَ إِلَى ابْنِ بُقَيْلَةَ كِتَابَ خَالِدٍ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى مَرَازِبَةِ فَارِسَ ، السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بِالْحَمْدِ الَّذِي فَصَلَ حَزْمَكُمْ ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَكُمْ ، وَوَهَّنَ بَأْسَكُمْ ، وَسَلَبَ مُلْكَكُمْ ، فَإِذَا جَاءَكُمْ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَقِدُوا مِنِّي الذِّمَّةَ ، وَأَدُّوا إِلَيَّ الْجِزْيَةَ ، وَابْعَثُوا إِلَيَّ بِالرَّهْنِ ، وَإِلَّا فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَأَلْقَاكُمْ بِقَوْمٍ يُحِبُّونَ الْمَوْتَ كَحُبِّكُمُ الْحَيَاةَ ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو کچھ لوگ مرتد ہو گئے ، اُن لوگوں نے کہا: کہ ہم نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ کیا آپ ان لوگوں سے یہ بات قبول کریں گے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ مجھے بکری کا کوئی بچہ دینے سے بھی انکار کریں گے ، تو میں اس بات پر بھی ان سے جنگ کروں گا پھر انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا عدی بن حاتم ، طے قبیلے کے ایک ہزار افراد کو لے کے یمامہ آ گئے راوی کہتے ہیں : بنو عامر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ سرکاری اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا ، اور انہیں آگ کے ذریعے جلا دیا تھا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم بنو عامر کو قتل کر دو اور انہیں آگ کے ذریعے جلا دو انہوں نے ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ عورتیں چیخیں مارنے لگے پھر وہ آگے بڑھ گئے ، یہاں تک کہ وہ پانی تک پہنچ گئے جس کی طرف نکل کر وہ آئے تھے انہوں نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں جب انہوں نے یہ بات سنی تو ان سے رک گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ چلتے رہیں ، یہاں تک کہ حیرہ پہنچ جائیں پھر وہ شام کی طرف چلے گئے جب وہ حیرہ پہنچے تو اہل فارس نے انہیں خط لکھا ، اور پھر یہ کہا: کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں مسلسل انہیں خوف زدہ کرتا رہوں ، یہاں تک کہ انہوں نے ان پر حملہ کیا اور وہ سورنامی جگہ تک پہنچ گئے وہاں انہوں نے قتل و غارت گری کی اور قیدی بنایا پھر انہوں نے عین تمر پر حملہ کیا وہاں قتل و غارت گری کی اور لوگوں کو قیدی بنایا پھر وہ شام کی طرف چلے گئے ۔ عامر شعبی بیان کرتے ہیں : ابن بقیلہ نے مجھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا مکتوب نکال کر دکھایا جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سپہ سالاروں کے نام ہے اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کر لیتا ہے میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ایسی حمد جس نے تمہاری اجتماعیت کو توڑ دیا تمہاری جماعت کو منتشر کر دیا ، اور تمہاری مضبوط چیزوں کو کمزور کر دیا ، اور تمہاری بادشاہی کو سلب کر لیا جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم میری طرف سے ذمہ قبول کر لینا اور مجھے جزیہ ادا کرنا اور چیزیں میری طرف بھجوا دینا اگر ایسا نہ ہوا تو اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں ایسے لوگوں کے ساتھ تم سے لڑوں گا ، جو موت کو اس طرح پسند کرتے ہیں جس طرح تم لوگ زندگی کو پسند کرتے ہو اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (93/18)»