حدیث نمبر: 10394
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : ¤ لَقِيَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : حِمَارُ الْيَمَامَةِ ، وَالرَّجُلُ طُوَالٌ فِي يَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ . ¤ قَالَ : وَكَانَ الْبَرَاءُ قَصِيرًا ، فَضَرَبَ الْبَرَاءُ رِجْلَيْهِ بِالسَّيْفِ ، فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَهُ ، فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ ، قَالَ : فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ ، فَأَغْمَدْتُ سَيْفِي ، فَمَا ضَرَبْتُ بِهِ إِلَّا ضَرْبَةً وَاحِدَةً حَتَّى انْقَطَعَ ، فَأَلْقَيْتُهُ وَأَخَذْتُ سَيْفِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سِيرِينَ لَمْ يُدْرِكِ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ الرِّجَالِ بْنِ عُنْقُوَةَ فِي إِخْبَارِهِ بِالْمُغَيَّبَاتِ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : مسیلمہ کے ساتھ جنگ کے دن سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص آیا جسے یمامہ کا گدھا کہا: جاتا تھا وہ ایک لمبا تڑنگا شخص تھا اس کے ہاتھ میں سفید تلوار تھی سیدنا براء رضی اللہ عنہ چھوٹے قد کے شخص تھے سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اس کی ٹانگوں پر تلوار ماری تو ان کا وار خطا گیا اور پھر وہ ان کی گدی پر لگ گئی ۔ وہ کہتے ہیں : پھر میں نے اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور اُس کی تلوار کو لہرایا میں نے ایک ہی ضرب لگائی تھی ، یہاں تک کہ وہ کٹ گیا تو میں نے اسے پھینک دیا ، اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابن سیرین نے سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ رجال بن عنقوہ کے بارے میں روایت آگے چل کر آئے گی جو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور پوشیدہ چیزوں کے متعلق اطلاع دینے کے بارے میں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10394
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1181)»