مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ باب: مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : ¤ وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فِي جَيْشٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ قِبَلَ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانُوا قَدْ مَنَعُوا الْجِزْيَةَ الَّتِي سَلَّمُوا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ افْتَتَحَهَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْجِزْيَةِ ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ إِلَيْهِمْ حِينَ مَنَعُوا حَقَّ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ ، فَسَارَ إِلَيْهِمْ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْبَحْرُ حَتَّى مَشَوْا فِيهِ بِأَرْجُلِهِمْ ، فَقَطَعُوا كَذَلِكَ بِمَكَانٍ كَانَتْ تَجْرِي فِيهِ السُّفُنُ قَبْلَ ذَلِكَ ، وَهِيَ تَجْرِي فِيهِ الْيَوْمَ ، وَقَاتَلَهُمْ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَسَلَّمُوا وَامْتَنَعُوا مِنْ حَقِّ اللَّهِ - تَعَالَى - مِنْ أَمْوَالِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے ایک لشکر میں اہل بحرین کی طرف بھیجا جنہوں نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا جو جزیہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے جب سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے ان کے علاقے کو فتح کیا تھا ، اور انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ جزیہ پر ہی صلح کی تھی جب ان لوگوں نے اپنے اموال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے سے انکار کر دیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ ان کی طرف روانہ ہوئے سیدنا علاء رضی اللہ عنہ اور ان لوگوں کے درمیان سمندر موجود تھا وہ پیدل چلتے رہے ، اور یہ راستہ پار کرتے رہے اسی طرح وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کشتیاں چلتی تھیں سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان لوگوں پر غلبہ عطا کر دیا ، اور ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ، پہلے کی طرح ادا کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی سند نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔